خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 9 of 703

خطبات نور — Page 9

9 بھی نہیں آسکتی۔منافق کا نفاق جب ظاہر ہوتا ہے تو اس کو کیسی شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔جھوٹ بولنے والے کے جھوٹ کے ظاہر ہونے پر وعدہ خلافی کرنے والے کے خلاف وعدہ کام کرنے پر ان کو کیسا دکھ ہوتا ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے مذہبی حیثیت سے اپنے پاک اور ثابت شدہ بین اور روشن عقائد اور اصول مذہب کے لحاظ سے کل دنیا پر فضیلت رکھتے ہیں۔کیا خدا تعالیٰ کے حضور کوئی صرف دعوے سے افضل ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔خدا تعالی مخفی در مخفی ارادوں اور نیتوں کو جانتا ہے۔اس کے حضور نفاق کام نہیں آسکتا۔بلکہ مَنْ جَاءَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ کام آتا ہے۔سلامتی ہو۔انکار نہ ہو۔خدا سے سچی محبت ہو۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی اور خیر خواہی ہو۔امر بالمعروف کرنے والا اور نَاهِی عَنِ الْمُنْكَرِ ہو۔بدی کا دشمن، راستبازوں کا محب ہو۔خد اتعالیٰ سے غافل اور بے پرواہ نہ ہو۔یہ منشائے اسلام ہے۔پس یاد رکھو کہ عقائد کے لحاظ سے دنیا میں بینظیر چیز اسلام ہے۔میں راستی سے کہتا ہوں کہ ایمان کے لحاظ سے اعمال کے لحاظ سے دنیا میں کوئی مذہب اسلام سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔مگر میں یہ بھی ساتھ ہی کہوں گا کہ اسلام ہو۔دعوائے اسلام نہ ہو۔مَنْ أَسْلَم وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِن (البقرة: 3) ساری توجہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگا دیوے اور ایسے طریق پر کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔یا کم از کم اتنا ہی ہو کہ اس بات کو کامل طور پر سمجھے کہ خدا مجھ کو دیکھ رہا ہے۔خدا تعالٰی کے انعام کو یاد کر کے اور یہ دیکھ کر کہ کیسی کتاب کیسا مذ ہب اس نے عطا کیا ہے۔دنیا کے دیگر مذاہب کی حفاظت کے لئے موید من اللہ نصرت یافتہ پیدا نہیں ہوتے۔اسلام کے اندر کیسا فضل اور احسان ہے کہ وہ مامور بھیجتا ہے جو پیدا ہونے والی بیماریوں میں دعاؤں کا مانگنے والا خدا کی درگاہ میں ہوشیار انسان، شرارتوں اور عداوتوں کے بد نتائج سے آگاہ بھلائی سے واقف انسان ہوتا ہے۔جب غفلت ہوتی ہے اور قرآن کریم سے بے خبری ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں میں بے سمجھی پیدا ہو جاتی ہے تو خدا کا وعدہ ہے کہ ہمیشہ خلفاء پیدا کرے گا جس کے سبب سے کل دنیا میں اسلام فضیلت رکھتا ہے۔یہ امر مشکل نہیں ہوتا کہ ہم اس انسان کو کیونکر پہچانیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔اس کی شناخت کے لئے ایک نشان منجملہ اور نشانوں کے خدا تعالیٰ نے یہ مقرر فرمایا ہے کہ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ (النور (٥٢)- خدا فرماتا ہے کہ ہمارے مامور کی شناخت کیا ہے؟ اس کے لئے ایک تو یہ نشان ہے کہ وہ بھولی بسری متاع جس کو خدا تعالی پسند کرتا ہے اس سے لوگ آگاہ ہوں اور غلطی سے چونک اٹھیں اور اسے چھوڑ دیں۔اس کو پورا کرنے کے لئے اس کو ایک طاقت