خطبات نور — Page 154
154 رضاء الہی کی وہی راہ ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدوں کی معرفت بیان کرے اور خوش قسمتی سے ہمارا امام ان سب سے واقف ہے اور وہ بتلا سکتا ہے کہ تم کس طرح خدا کا قرب حاصل کر سکتے ہو۔لیکن جو شخص اپنی طرف سے کوئی راہ تجویز کرتا ہے اور بلا کسی الہی سند کے کہتا ہے کہ اس سے خدا راضی ہو گا، وہ نفس دھوکا دیتا ہے۔خدا کی راہوں کا علم انسان کو تقویٰ کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقره: ۳۸۳) تم تقویٰ اختیار کرو۔اللہ تم کو علم عطا کرے گا جس سے تم اس کی رضامندی کی راہ پر چل سکو گے۔تقویٰ ہی ہے کہ انسان بالکل خدا کا ہو جاوے۔اس کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا ہر ایک حرکت و سکون خدا کے لئے ہو۔جب وہ ہمہ تن اپنے وجود اور ارادوں کو خدا کے لئے بنا دے گا تو پھر خدا بھی اس کا بن جاوے گا۔مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ الله له یہ وقت قابل قدر ہے میں نے اوپر ذکر کیا تھا کہ چاندوں کے ذریعہ سے انسان کو وقت کی قدر معلوم ہوتی ہے اور یہ اس کی گذشتہ اور آئندہ عمر کا سبق دیتے ہیں۔اسی طرح ہر ایک بات کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔وہ جب ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو پھر ہاتھ نہیں آیا کرتا۔دیکھو کل شام تک ایک وقت تھا کہ اس دن میں تندرست اور مقیم کے لئے کھانا پینا حرام تھا۔لیکن جب وہ وقت ختم ہو گیا تو اس کے احکام اور برکات بھی ختم ہو گئے۔آج ایک وقت ہے کہ اس کا حکم کل سے بالکل متضاد ہے۔اگر کل تندرست اور مقیم کے لئے کھانا پینا دن میں حرام تھا تو آج اس کے واسطے نہ کھانا حرام ہے، نہ پینا۔ہماری آنکھ کان ناک دست و پا سب کچھ وہی ہیں جو کل تھے۔لیکن تقومی اطاعت اور حکم برداری کے لحاظ سے کل اور آج میں کس قدر تفرقہ ہے۔اسی طرح خدا نے حج عید نماز کھانے اپنے سونے جاگنے وغیرہ کے وقت مقرر کئے ہیں اور جب وقت پر ایک کام حسب رضاء الہی بجالایا جاتا ہے تو وہ فضل اور برکات کا موجب ہوتا ہے۔کل روزہ رکھنے کا ثواب تھا اور آج عذاب ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت دراصل اطاعت کا نام ہے۔اگر اس میں احکام الہی کی اطاعت نہ ہو تو وہی عبادت حرام اور قبیح ہو جاتی ہے۔اس سے ایک سبق حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسے ہر ایک بات کے لئے ایک وقت ہوتا ہے ایسے ہی کامل متقی بننے کے لئے ایک وقت ہوتا ہے اور وہ وہ وقت ہوتا ہے جب خدا کی طرف سے کوئی اس کا خلیفہ دنیا میں آیا ہو۔سو یہ بھی وہی وقت ہے۔جب وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر ہاتھ نہیں آتا۔موت کا دروازہ تو کسی انسان