خطبات نور — Page 153
153 نظر میں بھلی اور برائی بدی کسی محدود خیال سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی نظر وسیع اور اس بات پر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الورا ہے۔کوئی عقل اور علم اسے محیط نہیں۔بلکہ کل دنیا اس کی محاط ہے۔اس کی رضامندی کی راہوں کو کوئی نہیں جان سکتا بجز اس کے کہ وہ خود کسی پر ظاہر کرے۔یہ نظر انبیاء اور رسل اور ان کے خلفاء راشدین کی ہوتی ہے۔وہ نہ خود تجویز کرتے ہیں اور نہ دوسرے کی تراشیدہ تجاویز مانتے ہیں بلکہ خدا کی بتلائی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں۔عرب کے نادانوں کا خیال تھا کہ جب وہ گھر سے حج کے لئے نکلیں اور پھر کسی ضرورت کے لئے ان کو واپس گھر آنا پڑے تو گھروں کے دروازہ میں داخل ہونا وہ معصیت خیال کرتے تھے اور پیچھے سے چھتوں پر سے ٹاپ کر آیا کرتے تھے اور اسے ان لوگوں نے نیکی خیال کر رکھا تھا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ باتیں نیکی میں داخل نہیں بلکہ نیکی کا وارث تو متقی ہے۔تم اپنے گھروں میں دروازہ کی راہ سے داخل ہوا کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔اس روح کو ابدالاباد ضرورتیں ہیں جن کی کسی کو خبر نہیں۔اور مرکز جس ملک میں لوگ جاتے ہیں وہاں سے آج تک کوئی نہیں آیا جو یہ بتلاوے کہ وہاں کے لئے کس قسم کے سامان کی ضرورت ہے۔کھانے پینے لباس اور آسائش کے واسطے کیا کیا انسان ساتھ لے جاوے۔گزشتہ زمانہ کی نسبت تو لوگوں کے بڑے بڑے دعوے ہیں اور بعض مذاہب اپنی قدامت پر بڑا فخرو ناز کرتے ہیں۔آریہ کہتے ہیں کہ ہم ہزا ر ہا برس سے ہیں اور جین مت والے ان سے بھی زیادہ قدامت میں قدم مار رہے ہیں اور زردشت کے ماننے والوں نے تو حد ہی کر دی کہ مہاسنکھ کے پہلے سترہ صفر بڑھا دیئے۔غرضیکہ گزشتہ تاریخ کے دیکھنے میں انسانوں نے بڑے دعوے کئے ہیں۔ایسے ہی اسٹرالوجی (Astrology) علم نجوم میں دور دور کے ستاروں کی تحقیق کی گئی ہے اور عجیب عجیب خواص اور ہیئت ان کی دریافت کی ہے۔قدامت میں وہاں تک اور دور بینی میں یہاں تک نوبت پہنچائی ہے۔نیچے کی طرف جیالوجی والوں نے زمین کے اندر بڑے بڑے غوطے لگائے مگر ایک سیکنڈ کے بعد کیا ہونے والا ہے کوئی نہیں بتاتا اور جب ایک سیکنڈ کے بعد کی خبر نہیں بتلائی جاتی تو مر کر کیا ہونا ہے اور کیا مرحلے پیش آتے ہیں، اس کی خبر کون دے؟ صرف خدا کی ہی ایک ذات ہے جو اس کی خبر دے سکتی ہے اور کوئی نہیں۔وہی بتلاتا ہے کہ مرنے کے بعد تم کو فلاں فلاں امور کی ضرورت ہے اور تم کو اس ولایت میں بود وباش کے لئے فلاں قسم کا سامان درکار ہے۔یہ خبر انبیاء ان کے خلیفہ اور ماموروں کے ذریعہ ملتی ہے اور جو کچھ وہ بتلاتے ہیں وہ خدا سے خبر پا کر بتلاتے ہیں ورنہ بذات خود غیب کی کنجی نہیں ہوتے۔