خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 703

خطبات نور — Page 128

128 کھچا کچھی کرتا ہے تو دوسرا بھی اس میں جتلا ہو جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہوا بگڑ جاتی ہے۔جب یہ خود دوسرے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو چونکہ وہ بھی کبر الہی کا مظہر ہے اس لئے تکبر کرتا اور وحدت اٹھ جاتی ہے۔اسی لئے حکم دیا کہ نزاع نہ کیا کرو ورنہ پھل جاؤ گے اور فرمایا صبر کرو۔ایسا صبر نہیں کہ کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری پھیر دو بلکہ ایسا صبر کرو اور عفو ہو کہ جس میں اصلاح مقصود ہو۔سچے مومن بننا چاہتے ہو تو یاد رکھو لا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِه (بخاری کتاب الایمان)۔اسی وحدت کے قائم رکھنے کے لئے نمازوں میں یک جہتی تھی۔مکہ کا وجود تھا۔اور اب اس وقت خدا کا کیسا فضل ہے اور کیسی مبارکی کا یہ زمانہ ہے کہ سب سامان موجود مکالمہ الہی ہوتا ہے۔ایک مطاع مکرم معظم موجود ہے جو اپنے عام چال چلن مخلوق کے ساتھ ہیں۔تعلقات، معاشرت اور گورنمنٹ کے ساتھ اپنے معاملات کا نمونہ دکھانے سے قوم بنا رہا ہے۔اس لئے اب کوئی عذر باقی نہیں رہ سکتا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کہنے کی باتیں ہیں، کرنے کی نہیں۔یہ ان کی غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ نے کوئی امر و نہی ایسا نہیں دیا ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہو ورنہ اس کی حکیم کتاب قرآن مجید کا یہ ارشاد کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقره: ۳۸۷) باطل ہو گا اور وہ باطل نہیں ہے۔متقی اور خدا سے ڈرنے والا ایسی بات منہ سے نہیں نکال سکتا۔یہ صرف خبیث روح کی تحریکیں ہیں۔الاحسان اس کے بعد تیسری بات جبرائیل نے پوچھی ہے جس سے دین کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ یہ ہے۔مَا الْإِحْسَانُ؟ (بخاری کتاب الایمان) احسان کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ایسا اخلاص اور ایسا انتساب ہو کہ تو گویا اس کو دیکھتا ہے اور اگر اس درجہ تک نہ پہنچے تو کم از کم اپنے آپ کو اس کی نگرانی میں سمجھے۔جب تک ایسا بندہ نہ ہو وہ دین کے مراتب کو نہیں سمجھ سکتا۔پس ایسا دین کوئی سلیم الفطرت کہہ سکتا ہے کہ اس میں اکراہ کی ضرورت ہے؟ ہرگز نہیں۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيّ (البقرة: ۲۵۷)۔اس وقت بھی ویسا ہی وقت ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں تھا۔ہدایت کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔تجربے، مشاہدہ سائنس، قومی کانشو و نما وجدان، صحیح فطری قومی رشد اور غی میں امتیاز کرنے کو موجود ہیں۔رُشد کو اقتصاد بھی کہتے ہیں جو افراط اور تفریط کے درمیان کی راہ ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو خاص