خطبات نور — Page 123
123 کے لئے یقین اور معرفت کی راہوں کو روکنے والی ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہیں بے انت اور اس کے مراتب و درجات بے انتہا ہیں پھر مومن کیونکر مستغنی ہو سکتا ہے۔اس لئے اسے واجب ہے کہ اللہ کے فضل کا طالب اور ملائکہ کی پاک تحریکوں کا متبع ہو کر کتاب اللہ کے سمجھنے میں چست و چالاک ہو۔اور سعی اور مجاہدہ کرے۔تقویٰ اختیار کرے تا کچے علوم کے دروازے اس پر کھلیں۔غرض کتاب اللہ پر ایمان تب پیدا ہو گا جب اس کا علم ہو گا اور علم منحصر ہے مجاہدہ اور تقویٰ پر اور فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ (المومن: ۸۴) سے الگ ہونے پر۔ایمان بالرسالت اس کے بعد چوتھار کن ایمان کا ایمان بالرسول ہے۔بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈھیروں ڈھیر کتا بیں ہیں۔پرانے لوگوں کی یادداشتیں ہیں۔ہم نیکی اور بدی کو سمجھتے ہیں۔کسی مامورو مرسل کی کیا ضرورت ہے؟ یہ لوگ اپنے مخازن علوم کو کافی سمجھتے ہیں اور خطرناک جرم کے مرتکب ہوتے ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حضور باغی ٹھہرائے جاتے ہیں اور یہ سچ بھی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی سے تو وہ مقابلہ کرتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ ایک انسان کو معظم و مکرم اور مطاع بنانا چاہتا ہے تو ہر ایک کا فرض ہے کہ رضاء الہی کو مقدم کرے اور اس کو اپنا مطاع سمجھے۔ارادہ الہی کو کوئی چیز روک نہیں سکتی۔اس کے مقابلہ میں تو جو آئے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔پس جو خلاف ورزی کرتا ہے یا یہ سمجھتا ہے کہ میرے علوم کے سامنے اس کی احتیاج نہیں وہ اس تعظیم کرمت، اعزاز میں جو اس مطاع اکرم و معظم کے متبعین کو ملتا ہے حصہ دار نہیں ہو تا بلکہ محروم رہ جاتا ہے۔خواہ ایسا انسان اپنے طور پر کتنی ہی نیکیاں کرتا ہو مگر ایک انسان کی مخالفت اور خلاف ورزی سے اس کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان منشاء کے خلاف کرتا ہے۔اس پر بغاوت کا الزام ہے۔دنیوی گورنمنٹوں کے نظام میں بھی یہی قانون ہے۔ایک بھلا مانس آدمی جو کبھی بد معاملگی نہیں کرتا۔چوری اور رہزنی اس کا کام نہیں۔تاجر ہے تو چونگی کا محصول اور دوسرے ضروری محاصل کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرتا۔زمیندار ہے تو وقت پر لگان ادا کرتا ہے۔لیکن اگر وہ یہ کہے کہ بادشاہ کی ضرورت نہیں اور اس کے اعزاز و اکرام میں کمی کرے تو یہ شریر اور باغی قرار دیا جاوے گا۔