خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 122 of 703

خطبات نور — Page 122

122 اس کے بعد تیسرا جزو ایمان کا ایمان بالکتب ہے۔براہ راست مکالمہ اول فضل ہے پھر ملائکہ کی تحریک پر عمل کرنا اس کے قرب کو بڑھاتا ہے۔ان کے بعد کتاب اللہ کے ماننے کا مرتبہ ہے۔کتاب اللہ پر ایمان بھی اللہ کے فضل اور ملائکہ ہی کی تحریک سے ہوتا ہے۔اللہ کی کتاب پر عمل در آمد جو بچے ایمان کا مفہوم اصلی ہے، چاہتا ہے محنت اور جہاد۔چنانچہ فرمایا۔وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ اور سعی کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔یہ کیسی کچی اور صاف بات ہے۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں اختلاف کے وقت انسان مجاہدات سے کام نہیں لیتا۔کیوں ایسے وقت انسان دبدھا اور تردد میں پڑتا ہے اور جب یہ دیکھتا ہے کہ ایک کچھ فتویٰ دیتا ہے اور دوسرا کچھ تو وہ گھبرا جاتا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔کاش وہ جَاهَدُوا فِيْنَا کا پابند ہوتا تو اس پر سچائی کی اصل حقیقت کھل جاتی۔مجاہدہ کے ساتھ ایک اور شرط بھی ہے، وہ تقویٰ کی شرط ہے۔تقویٰ کلام اللہ کے لئے معلم کا کام دیتا ہے وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ الله (البقرہ: ۳۸۳)۔اللہ کی تعلیم تقویٰ پر منحصر ہے اور اس کی راہ کا حصول جہاد پر۔جہاد سے مراد اللہ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور کوشش ہے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور جہاد اور تقویٰ اللہ سے روکنے والی ایک خطرناک غلطی ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے فَرِحُوْابِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ (المومن (۸۳)۔کسی قسم کا علم جو انسان کو ہو وہ اس پر ناز کرنے اس کو اپنے لئے کافی اور راحت بخش سمجھے تو وہ بچے علوم اور ان کے نتائج سے محروم رہ جاتا ہے۔خواہ کسی قسم کا علم ہو، وجدان کا سائنس کا صرف و نحو یا کلام یا اور علوم غرض کچھ ہی ہو انسان جب ان کو اپنے لئے کافی سمجھ لیتا ہے تو ترقیوں کی پیاس مٹ جاتی ہے اور محروم رہتا ہے۔راستباز انسان کی پیاس سچائی سے کبھی نہیں بجھ سکتی بلکہ ہر وقت بڑھتی ہے۔اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ ایک کامل انسان اَعْلَمُ بِاللهِ اتَّقَى لِلَّهِ - أَخْشَى لِلَّهِ جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بچے علوم معرفت بچے بیان اور عمل درآمد میں کامل تھا۔اس سے بڑھ کر اعلم اچھی اور اخشی کوئی نہیں۔پھر بھی اس امام المتقین اور امام العالمین کو یہ حکم ہوتا ہے قُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا - (:) اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ سچائی کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور یقین کی راہوں اور علوم حقہ کے لئے اسی قدر پیاس انسان میں بڑھے گی جس قدر وہ نیکیوں اور تقویٰ میں ترقی کرے گا۔جو انسان اپنے اندر اس پیاس کو بجھا ہوا محسوس کرے اور فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ (المومن:۸۴) کے آثار پائے اس کو استغفار اور دعا کرنی چاہئے کہ وہ خطرناک مرض میں مبتلا ہے جو اس