خطبات نور — Page 121
121 قرب الہی کا دوسرا ذریعہ یہ پکی بات ہے کہ جب انسان نیکی کی تحریکوں کو ضائع کرتا ہے تو پھر وہ طاقت وقت فرصت اور موقع نہیں ملتا۔اگر انسان اس وقت متوجہ ہو جاوے تو معا نیک خیال کی تحریک ہوتی ہے۔چونکہ اس خواہش کا محرک محض فضل الہی سے ملک ہوتا ہے جب انسان اس کی تحریک پر کار بند ہوتا ہے تو پھر اس فرشتہ اور اس کی جماعت کا تعلق بڑھتا ہے اور پھر اس جماعت سے اعلیٰ ملائکہ کا تعلق بڑھنے لگتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔ایک حدیث میں صاف آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی سے پیار کرتا ہے تو جبرائیل کو آگاہ کرتا ہے تو وہ جبرائیل اور اس کی جماعت کا محبوب ہوتا ہے۔اسی طرح پر درجہ بدرجہ وہ محبوب اور مقبول ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین میں مقبول ہو جاتا ہے۔یہ حدیث اسی اصل اور راز کی حل کرنے والی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔ایمان بالملائکہ کی حقیقت پر غور نہیں کی گئی اور اس کو ایک معمولی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔یاد رکھو کہ ملائکہ کی پاک تحریکوں پر کاربند ہونے سے نیکیوں میں ترقی ہوتی ہے یہاں تک کہ انسان اللہ تعالیٰ کا قرب اور دنیا میں قبول حاصل کرتا ہے۔اسی طرح پر جیسے نیکیوں کی تحریک ہوتی ہے میں نے کہا ہے کہ بدیوں کی بھی تحریک ہوتی ہے۔اگر انسان اس وقت تعوذ و استغفار سے کام نہ لے دعائیں نہ مانگے ، لاحول نہ پڑھے تو بدی کی تحریک اپنا اثر کرتی ہے اور بدیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔پس جیسے یہ ضروری ہے کہ ہر نیک تحریک کے ہوتے ہی اس پر کار بند ہونے کی سعی کرے اور سستی اور کاہلی سے کام نہ لے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر بد تحریک پر فی الفور استغفار کرے لاحول پڑھے۔درود شریف اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور دعائیں مانگے۔یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایمان باللہ کے بعد ایمان بالملائکہ کو کیوں رکھا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری سچائیوں اور پاکیزگیوں کا سرچشمہ تو جناب الہی ہی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے پاک ارادے ملائکہ پر جلوہ گری کرتے ہیں اور ملائکہ سے پاک تحریکیں ہوتی ہیں۔نیکی کی ان تحریکوں کا ذریعہ دوسرے درجہ پر چونکہ ملائکہ ہیں اس لئے ایمان باللہ کے بعد اس کو رکھا۔ملائکہ کے وجود پر زیادہ بحث کی اس وقت حاجت نہیں۔یہ تحریکیں ہی ملائکہ کے وجود کو ثابت کر رہی ہیں۔اس کے علاوہ لاکھوں لاکھ مخلوق الہی ایسی ہے جس کا ہم کو علم بھی نہیں اور نہ ان پر ایمان لانے کا ہم کو حکم ہے۔