خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 703

خطبات نور — Page 119

119 لِيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمُ (صحیح مسلم کتاب الایمان)۔پس دین کی حقیقت اور اس کا صحیح اور سچا مفہوم وہ ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بیان فرمایا۔الاسلام کے معنی یہ ہیں سر رکھ دینا۔جان سے دل سے اعضاء سے مال سے غرض ہر پہلو اور ہر حالت میں اللہ تعالٰی ہی کی فرمانبرداری کرنا۔دین کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں عطا فرمائی ہیں جن کے ذریعہ ہم اس کی کامل اطاعت فرمان پذیری اور وفاداری کا اظہار کر سکتے ہیں اور پھر ان کے وراء الورٹی اندر ہی اندر قومی پر حکمرانی کر سکتے ہیں اور ان کو الہی فرمانبرداری میں لگا سکتے ہیں۔غرض دین کی اصل حقیقت جو قرآن شریف نے بتائی ہے وہ مختصر الفاظ میں کامل وفاداری، بچی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے۔دین کا پہلا رکن ایمان پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کے توسط سے جو کچھ صحابہ کو اور ہم کو سکھایا ہے وہ ان سوالات میں بیان ہوا ہے جو صحابہ کی موجودگی میں جبرائیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے اور جن کی اصل غرض لِيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ تھی۔ان میں سے پہلا یہ ہے۔مَا الْإِيْمَانُ؟ یا رسول الله ! ایمان کس چیز کا نام ہے؟ فرمایا۔اَنْ تُؤْمِنَ بِالله ایمان کی عظیم الشان اور پہلی جزو ایمان باللہ ہے۔اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ ایمان کا سرچشمہ اور اس کی ابتدا اللہ پر یقین کرنے سے شروع ہوتی ہے۔ایمان باللہ کیا چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ کو جمیع صفات کاملہ سے موصوف اور تمام محامد اور اسماء حسنیٰ کا مجموعہ اور مسمی اور تمام بدیوں اور نقائص سے منزہ یقین کرنا اور اس کے سوا کسی شے سے کوئی امید وہیم نہ رکھنا اور کسی کو اس کا نڈ اور شریک نہ ماننا یہ ایمان باللہ ہے۔جب انسان اللہ تعالٰی کو ان صفات سے موصوف یقین کرتا ہے تو ایسے خدا سے وہی قرب اور تعلق پیدا کر سکتا ہے جو خوبیوں سے موصوف اور بدیوں سے پاک ہو گا۔پس جس جس قدر انسان فضائل کو حاصل کرتا اور رزائل کو ترک کرتا ہے اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے قرب کے مدارج اور مراتب کو بڑھاتا اور اللہ تعالیٰ کی ولایت میں آتا جاتا ہے کیونکہ پاک کو گندے کے ساتھ قرب کی نسبت نہیں ہو سکتی اور جوں جوں رزائل کی طرف جھکتا اور فضائل سے ہٹتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ کے قرب سے محروم ہو کر اس کے فیضان ولایت سے دور اور مجور ہوتا جاتا ہے۔