خطبات نور — Page 634
634 اسی طرح بعض لوگ کتابیں لکھتے ہیں۔پھر ان پر حاشیے چڑھاتے ہیں۔پھر ان پر حاشیہ در حاشیه در حاشیہ اور ان کی شرحیں ہوتی ہیں۔میری طالب علمی کا زمانہ بڑا دکھ کا زمانہ گزرا ہے۔بڑا معرکتہ الآراء مسئلہ کہ بچہ کو کیسی تعلیم دینی چاہئے اس کا کوئی فکر نہیں۔رامپور میں میں نے طلباء کو دیکھا جن کی عمر تمیں سال سے لے کر ساٹھ سال تک کی ہو گئی تھی۔ایک ملتانی بوڑھا آدمی میری پنجابی سن کر مجھے ملنے کو آیا۔ان دنوں میں ایک بہت ہی خبیث کتاب "ملا حسن " پڑھا کرتا تھا۔اس سے میں نے دریافت کیا کہ تم کیا پڑھا کرتے ہو؟ اس نے کہا قاضی مبارک"۔وہ جب آیا تو میرا انشراح صدر ہو گیا۔میں نے کہا کہ میں ” قاضی مبارک خوب جانتا ہوں۔اس نے کہا مجھے پڑھا دو۔اتفاق سے جس جگہ کو میں نے پڑھایا وہ مجھے خوب آتی تھی۔اس کی عمر میرے خیال میں ستر برس کی تھی۔میں نے اسے پنجابی میں وہ جگہ پڑھائی۔وہ حیران ہو گیا اور کہنے لگا کہ آپ تو خوب جانتے ہیں۔پھر اس نے کہا کہ مجھے قاضی پڑھا دو۔میں نے کہا اس شرط پر کہ پہلے ایک سبق مشکوۃ کا پڑھ لیا کرو۔اس نے ہاتھ کو کھڑا کر کے دیکھا اور کہا کہ ابھی تو مضبوط ہوں۔( تم مجھے دیکھتے ہو۔میں کیسا کمزور ہوں۔وہ مجھ سے بھی زیادہ کمزور تھا، پہلے فلسفہ پڑھ لوں پھر مشکوۃ بھی پڑھ لوں گا۔میں نے اس کو پڑھانے سے انکار کر دیا۔یہ ایک دکھ ہے جو بڑا ہے۔میں نے اس آیت پر غور کیا ہے۔وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا (البقرۃ:۷۳) یہ ایک سیدھی آیت ہے۔اس کے معنے تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا۔آدمی کو تو مارا ہی کرتے ہیں۔یہ ترجمہ اس کا صحیح نہیں۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم نے ایک جی (یا جان) کو مارا۔پھر اپنے آپ سے ہٹانے لگے کہ تم نے نہیں مارا۔معلوم ہوا کہ وہ جان ایسی نہ تھی جس کا وہ بہادری کا کام سمجھ کر اقرار کرتا۔کعب بن اشرف مارا گیا۔اس کے قاتل کا پتہ پوچھنے پر نبی کریم میم نے فرمایا۔میں نے مارا ہے۔ابو رافع مارا گیا۔اس کے لئے بھی نبی کریم میں تیار کریم نے فرمایا کہ ہم نے اس کو مارا ہے۔کشت و خون جیسا کہ آجکل سرحدیوں ، وزیریوں اور محسودیوں وغیرہ میں ہے ایسا ہی عرب میں تھا۔سب کے نزدیک عورت کا مارنا بہت معیوب ہے۔ابو سفیان نے کہا تھا کہ آپ اس لڑائی میں عورتوں کو بھی مقتول پائیں گے مگر میں نے یہ حکم نہیں دیا۔میں ایک دفعہ ایک رئیس کے ساتھ جس کے ساتھ انگریز بھی تھے، سور کے شکار پر گیا۔سامنے سے ایک سور آیا۔اس کا گھوڑا اس سے ڈر گیا۔وہ جھک کر گھوڑے کو ایک طرف دوڑا کرلے گیا۔ایک مسخرا