خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 621 of 703

خطبات نور — Page 621

کار اکتوبر ۱۹۱۳ء 621 خطبه جمعه حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ کے ساتویں رکوع کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس رکوع شریف میں ہم لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ انسان دنیا میں کس طرح ذلیل ہوتے ہیں کس طرح مسکین بنتے ہیں اور کس طرح خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آتے ہیں۔کس طرح ابتدا اور انتہا ہوتی ہے۔بہت سے لوگ دنیا میں ہیں۔جب وہ بدی کرنا چاہتے ہیں تو اگر وہ نیکوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں یا کسی نیکی کی کتاب پڑھتے اور مطالعہ کرتے ہیں تو پہلے پہل ان کو حیاء مانع ہوتا ہے اور وہ بدی کرنے میں مضائقہ کرتے ہیں۔پہلے چپکے سے ایک چھوٹی سی بدی کر لی پھر اس بدی میں تکرار کرتے ہیں پھر بدی میں ترقی کرتے ہیں۔رفتہ رفتہ بدیوں میں کمال پیدا کر لیتے ہیں۔کل جہان میں دیکھو۔بدی اسی طرح آتی ہے۔کبھی یکدم نہیں آتی۔حضرت موسیٰ اپنی قوم کو کہتے ہیں کہ جو ہم کہتے ہیں وہ مان لو۔انہوں نے جواب دیا یہ تو ہم سے نہیں ہو سکتا۔نافرمانی کا نتیجہ کیا ہوا؟ ذلیل اور مسکین ہو گئے۔پہلے چھوٹی چھوٹی نافرمانیاں کیں ، پھر بڑی بڑی بدیوں تک نوبت پہنچ گئی۔