خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 618 of 703

خطبات نور — Page 618

618 ماہوار تمیں ہزار روپے تھی۔گویا ایک ہزار روپیہ یومیہ وہ پاتا تھا۔ایک دن وہ استاد صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ حضور نے بیسن کی روٹی کھانے کے لئے فرمایا ہے وہ نگلنی مشکل ہے۔اگر حکم ہو تو کچھ لقموں کے بعد ایک ڈلی مصری کی بھی کھالیا کروں۔میرے استاد صاحب نے بڑے زور سے فرمایا کہ نہیں، ہرگز نہیں ہو سکتا۔وہ آدمی بڑا مہمان نواز تھا۔مگر اس وقت وہ روپیہ اس کے کام نہ آسکا۔اسی طرح دیکھتے ہیں کہ مسلول و مدقوق کی حالت جب ترقی کر جاتی ہے تو دوسرے آدمی پاس بیٹھنے ، کھانے پینے وغیرہ سے مضائقہ کرتے ہیں۔یہ جسمانی بیماری کا حال ہے۔اسی طرح روحانی بیماری کا حال ہے۔سننے والو! ظاہر کو باطن سے تعلق ہوتا ہے اور باطن کو ظاہر سے رشتہ ہے۔غور کرو۔میں دیکھتا ہوں۔ایک دوست کو دیکھ کر میرے دل کو سرور ملتا ہے اور دیکھتے ہی دل خوش ہو جاتا ہے۔اس کا دیکھنا جو ظاہری ہے اس نے باطن میں جاکر دخل پایا۔اسی طرح ایک دشمن کو دیکھ کر میں خوش نہیں ہو تا بلکہ اس وقت میرے دل کی حالت کچھ اور ہوتی ہے۔یہ اس باطن کی رنجیدگی سے ظاہر پر اثر ہوتا ہے اور اس کے آثار میرے چہرہ پر اور میرے ہر عضو پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔پھر غصہ میں آکر اسے کچھ نہ کچھ ناگوار لفظ بول دیتے ہیں۔اس سے یہ قاعدہ نکلا کہ باطن کو ظاہر کے ساتھ اور ظاہر کو باطن کے ساتھ تعلق ضرور ہوتا ہے۔تو یہ معاملہ صاف ہے کہ انسان کا اندرونہ اور بیرونہ کچھ عجائبات سے باہم پیوست ہوتا ہے۔میں نے ایک کنچنی سے پوچھا کہ کیا تو زنا کو حلال جانتی ہے؟ تو کہا۔ہاں۔پھر میں نے پوچھا کہ کیا مسلمان ہے؟ کہنے لگی الحمد للہ مسلمان ہوں۔اگر پوچھا جاوے کہ اسلام کے کوئی احکام جانتی ہو تو کہہ دیں گی کہ جی ہم جاہل ہیں، ہمیں کیا علم ہے۔دنیا کے معاملات میں بندوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بھی بیچ بول لیتے ہیں۔ان کے شرفا میں بھی ایسے ہیں جو ڈا کہ چوری جھوٹ وغیرہ وغیرہ کا ارتکاب نہیں کرتے بلکہ اس کو برا لکھتے ہیں۔ان میں خدا ترس بھی ہیں کہ لوگوں کے آرام کے لئے انہوں نے جنگلوں میں درخت کنویں اور بڑی بڑی عمارتیں بنوائی ہیں۔لوگوں کے آرام کے واسطے نہیں بلکہ جانوروں کے آرام کے واسطے بھی ہزاروں ہزار روپیہ خرچ کر دیتے ہیں۔برعکس اس کے جب کسی مسلمان سے سوال کرتے ہیں تو وہ اپنے اعمال کی شہادت اس قدر نہیں دے سکتے جتنا کہ ایک ہندو دے سکتا ہے۔وہ لوگوں کے فائدہ کے لئے بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔وہ قومی چندے دینے میں جان کا بھی دریغ نہیں کرتے۔ہم تاریخ عرب یاغستان اور افغانستان کے متعلق بڑے بڑے عجائبات پاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلْحَجُّ اشْهُرُ مَعْلُومَاتٌ (البقرة: ۱۹۸) ہر سال میں چار مہینے ہیں اور یہ بڑے۔متبرک مہینے ہیں۔ذیقعد ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ان مہینوں کی زمانہ جاہلیت میں اتنی عزت ہوتی تھی کہ