خطبات نور — Page 591
591 سارے محامد کا جامع اور ہر قسم کے عیب و نقص سے منزہ ہے اس لئے اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔پھر اللہ کی صفت صمد ہے۔صمد کے معنے خود ہی دوسرے مقام پر کھول کر بتائے ہیں۔انتُم الفقراء إلى الله واللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ (فاطر (1) تم سب محتاج ہو۔غیر محتاج صرف اللہ کی ذات ہے۔غرض اللہ کے لفظ کے جو معنی ہیں کہ ساری خوبیوں والا اور ساری برائیوں سے منزہ اور پاک معبود حقیقی، اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت ناجائز ہے۔یہ خلاصہ ہے تمام کلام الہی کا اور اسی کا ذکر ہر رکوع بلکہ ہر آیت میں ہے۔بعض کتابوں میں اللہ کا ذکر تک نہیں ہوتا بخلاف اس کے دیگر کتابیں ہیں کہ ان کے صفحے کے صفحے پڑھ جاؤ ان میں خدا کا نام تک نہ نکلے گا۔بائبل میں ایک کتاب ہے۔اس میں اللہ کا ذکر ضمیر کے رنگ میں بھی نہیں حالانکہ اسے بھی کتب مقدسہ میں سے سمجھتے ہیں۔مگر قرآن مجید میں تو کوئی رکوع ایسا نہیں جہاں عظمت الہی کا ذکر نہ ہو۔الحمد میں تین قوموں کا ذکر الحمد میں تین قوموں کا ذکر فرمایا ہے۔ایک منعم علیہم۔دوم مغضوب علیہم۔مغضوب کا فاعل نہیں بیان کیا۔کیونکہ ان پر خالق بھی غضبناک ہے اور مخلوق بھی۔سوم ضالین کا۔اب اس کی تفصیل میں پہلے رکوع میں منعم علیہم کا بیان کہ وہ ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔مقیم الصلوۃ ہوتے ہیں۔منفق فی سبیل اللہ ہوتے ہیں۔مومن بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَ مِنْ قَبْلِكَ ہوتے ہیں اور مومن بالآخر۔اس کے بعد مغضوبوں کا ذکر کیا کہ ان کے دل حق کے شنوا زبان حق کی گویا نہیں ہوتی اور بہرے اندھے تکالیف کے لحاظ سے عذاب میں ہوتے ہیں۔اس لئے فرمایا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ) (البقرۃ:۸)۔اب فرماتا ہے کہ ضال لوگ کس طرح ہوتے ہیں؟ یہ بیان دو رکوع میں ہے۔چنانچہ اُولئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى (البقرۃ:۱۷) فرما کر بتا دیا کہ یہ ضالین کا بیان ہے جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت کو مول لیا ہے۔اور اس سے اگلے رکوع میں يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَّ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَّ مَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفُسِقِينَ (البقرة:۳۷) فرمایا کہ ضالین وہ ہیں جو بد عہد ہیں۔غرض انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا نام متقی ، مغضوب کا نام لا يُؤْمِنُ۔ضالین کا ذکر ان دو رکوعوں میں ہے۔اب ایک اور بات قابل سمجھنے کے ہے۔بہت سے لوگ پڑھے ہوئے یا ان پڑھ ایسے ہیں کہ انہوں