خطبات نور — Page 567
اور پھر فرمایا:۔567 حق اللہ تعالیٰ کا حق ماں باپ کا حق ذوی القربیٰ کا حق مسکینوں کا حق مسافروں کا حق کل مخلوق کا جناب الہی بیان فرماتے ہوئے ارشاد کرتے ہیں کہ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمُ اولاد کو قتل مت کرو۔قتل میں نے بہت طرح سے دیکھا ہے۔بعض عورتیں اس قسم کی دوا کھاتی ہیں کہ آئندہ اولاد نہ ہو۔بعض کچھے حمل گروا دیتی ہیں۔پھر میں نے دیکھا ہے کہ آپ بھی ساتھ ہی مرجاتی ہیں۔بعض ایسے ہیں کہ لڑکی پیدا ہو تو اسے مار دیتے ہیں۔بعض ان کا علاج نہیں کرتے۔بعض اس کی تربیت خوب نہیں کرتے۔بعض اپنی اولاد کے لیے پاک صحبت کا انتظام نہیں کرتے۔یہ نہیں سوچتے کہ ان کے لئے کونسا علم نافع ہو گا اور ان کی اولاد کا میلان طبع کس طرف ہے؟ ہزاروں لاکھوں کتابیں بنی ہوئی ہیں۔ہر ملک کے لوگ اپنے خیال کے مطابق پڑھانے چلے جاتے ہیں۔نہ پڑھنے والے کی دلچسپی کا خیال کرتے نہ اخو ناقص اور اہم و مفید میں کوئی فرق کرتے ہیں۔میری سمجھ میں یہ سب قتل اولاد کی قسم میں سے ہے۔پھر ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ بدکاریوں کے نزدیک بھی نہ جاؤ۔نزدیکی کبھی آنکھ سے ہوتی ہے، کبھی کان سے کبھی زبان سے کبھی ہاتھ سے کبھی روپے ہے۔غرض ابتدا انہی باتوں سے ہوتی ہے۔تم ان سے بچو۔گندی صحبتوں سے نفرت رکھو۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو۔یہ بڑی بے حیائی اور بد چلنی کا کام ہے۔ناحق کسی کو قتل نہ کرو۔مظلوم کو خدا تعالٰی ضرور مدد دیتا ہے۔وہ بدلہ لینے میں خطا نہ کرے۔یتیموں کے مال کے نزدیک بھی نہ جاؤ سوائے اس طریق کے جو ان کے حق میں بہتر ہو۔اپنے عہدوں میں وفاداری کرو۔ہم سے بھی تم نے عہد کئے ہیں۔ماپنے اور تولنے میں سیدھا معالمہ کرو۔انجام بخیر ہو گا۔جس چیز کا علم نہ ہو اسے منہ سے مت بولو۔اس کے در پے نہ ہو۔کانوں اور آنکھوں اور قومی کے مرکزوں سے یہ باتیں اٹھتی ہیں۔ان سب سے باز پرس ہو گی۔اکڑ بازی سے ملک میں مت چلو۔تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتے ہو۔خدا کو یہ باتیں ناپسند ہیں۔ان کو چھوڑ دو۔اللہ نے اس کتاب میں بڑی حکمت کی اور پکی باتیں بتائی ہیں۔ان پر عمل کرو۔اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ بناؤ۔مشرکوں کی سزا جہنم ہے۔الفضل جلد نمبرا--- ۱۸/ جون ۱۹۱۳ء صفحه ۱) ⭑-⭑-⭑-⭑