خطبات نور — Page 383
383 کامیاب زندگی بسر کرتا ہے، جب ناکام ہوتا ہے تو اس کے حالات میں تغیر پیش آتے رہتے ہیں۔میں نے ایک خطرناک ڈاکو سے پوچھا کہ کبھی تمہارے دل نے ملامت کی ہے؟ تو وہ کہنے لگا کہ تنہائی میں تو ضرور ضمیر ملامت کرتا ہے مگر جب ہماری چار یاری اکٹھی ہوتی ہے تو پھر کچھ یاد نہیں رہتا اور نہ یہ افعال برے لگتے ہیں۔یہ سب صحبت بد کا اثر ہے۔قرآن کریم میں کُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبه:) کا اسی واسطے حکم آیا ہے تاکہ انسان کی قوتیں نیکی کی طرف متوجہ رہیں اور نیک حالات میں نشو و نما پاتی رہیں۔غرض انسان کے دکھوں میں اور خیالات ہوتے ہیں، سکھوں میں اور۔کامیاب ہو تو اور طریق ہوتا ہے، ناکام ہو تو اور طرز۔طرح طرح کے منصوبے دل میں اٹھتے ہیں اور پھر ان کو پورا کرنے کے لئے وہ کسی کو محرم راز بناتے ہیں اور جب بہت سے ایسے محرم راز ہوتے ہیں تو پھر انجمنیں بن جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا تو نہیں مگر یہ حکم ضرور دیا۔یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَاتَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَيْسَ بِضَارِهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ (المجادله:اتا) ایمان والو! ہم جانتے ہیں کہ تم کوئی منصوبہ کرتے ہو، انجمنیں بناتے ہو۔مگر یاد رہے کہ جب کوئی انجمن بناؤ تو گناہ سرکشی اور رسول کی نافرمانبرداری کے بارے میں نہ ہو بلکہ نیکی اور تقویٰ کا مشورہ ہو۔بنی اسرائیل جب مصر کی طرف گئے تو پہلے پہل ان کو یوسف علیہ السلام کی وجہ سے آرام ملا۔پھر جب شرارت پر کمر باندھی تو فراعنہ کی نظر میں بہت ذلیل ہوئے مگر آخر خدا نے رحم کیا اور موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کو نجات ملی یہاں تک کہ وہ فاتح ہو گئے اور وہ اپنے تئیں نَحْنُ ابْنَاءُ اللَّهِ وَاحِبَّاوة (المائدة: سمجھنے لگے۔لیکن جب پھر ان کی حالت تبدیل ہو گئی ، ان میں بہت ہی حرامکاری شرک اور بدذاتیاں پھیل گئیں تو ایک زبر دست قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلط کیا۔فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ (بنی أولُهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُولِى بَاسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّيَارِ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولاً اسرائیل (۲)۔ستر برس وہ اس بلاء میں مبتلا رہے۔آخر جب بابل میں دکھوں کا زمانہ بہت ہو گیا اور ان میں سے بہت صلحاء ہو گئے حتی کہ دانیال عزرا ، حزقیل ارمیا ، ایسے برگزیدہ بندگان خدا پیدا ہوئے اور انہوں نے جناب الہی میں ہی خشوع خضوع سے دعائیں مانگیں تو ان کو الہام ہوا کہ وہ نسل جس نے گناہ کیا تھا وہ تو ہلاک ہو چکی اب ہم ان کی خبر گیری کرتے ہیں۔