خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 319 of 703

خطبات نور — Page 319

319 پس دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالی عجز سے بچاوے اور بقدر فہم و فراست تکیہ اسباب کرنا ضروری ہے۔اور پھر اس کے ساتھ مشورہ کرنا چاہئے۔قرآن شریف کا حکم ہے کہ اَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (الشوری:۳۹)۔مشورہ کرنا ایسا پاک اصول ہے کہ اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور برکت عطا ہوتی ہے اور انسان کو ندامت نہیں ہوتی۔مگر خود پسندی اور کبر ایسی امراض ہیں کہ انہوں نے شیطان اور انسان دونوں کو ہلاک کر دیا ہے۔دیکھو ہر انسان ایسی پختہ عقل اور فہم رسا کہاں رکھتا ہے کہ خود بخود اپنی عقل سے ہی ساری تدابیر کرلے اور کامیاب ہو جاوے۔یہ ہر ایک انسان کا کام نہیں۔اسی واسطے مشورہ کرنا ضروری رکھا گیا۔نا تجربہ کار تو نا تجربہ کار ہی ہے مگر اکثر اوقات بڑے بڑے تجربہ کار بھی مشورہ نہ کرنے کی وجہ سے سخت سے سخت ناکامیوں میں مبتلا ہو کر بڑی بڑی ندامتیں برداشت کرتے ہیں۔پس خود کو موجودہ ناکامیوں کے بہت فکروں میں ہلاک نہ ہونے دو اور نہ گذشتہ کاہلیوں اور فرو گذاشتوں کے خیال سے اپنے آپ کو عذاب میں ڈالو بلکہ بچے اسباب کی تلاش کرو اور مشوروں سے کام لو۔الكسل - کسل عربی میں کہتے ہیں کہ اسباب موجود ہوں مگر ان سے کام نہ لیا جاوے۔سامان مہیا ہیں مگر ان سے فائدہ نہ اٹھایا جاوے۔مثلا کتاب موجود ہے۔مدرس اور مولوی پڑھانے کے لئے موجود ہیں مگر علم کا حاصل نہ کرنا کسل ہے۔یا مثلاً اگر علم ہو پر عمل نہ کیا جاوے۔آنکھ خدا نے دی ہے مگر حق کی بینا نہیں، نہ اس سے کتاب اللہ کو پڑھے اور نہ نظر عبرت سے عبرت خیز نظاروں کو دیکھے۔کان دیئے ہیں مگر وہ حق کے شنوا نہیں۔زبان خدا نے دی ہے مگر وہ حق کی گویا نہیں۔غرض بجز تو کہتے ہیں اسباب کا مہیا ہی نہ کرنا۔اور کسل کے معنے ہیں کہ مہیا شدہ اسباب سے کام نہ لینا۔اور یہ دونوں قسم کے اخلاق رذیلہ اور کمزوریاں نتیجہ ہوتی ہیں ہم اور حزن کا۔کیونکہ جب انسان ہم و حزن میں ڈوب جاتا ہے تو اسے پھر نہ تو آئندہ کسی ترقی اور خوشی کے حصول کے اسباب مہیا کرنے اور شر سے بچنے کی کوشش کرنے کی توفیق اور وقت و فرصت ملتی ہے اور نہ ہی وہ کسی قسم کے خوشی وراحت کے اسباب سے کام لے کر نتیجہ اور پھل کا وارث بن سکتا ہے۔ای واسطه شریعت اسلام جو کہ عین فطرت انسانی کے مطابق خالق فطرت خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس میں اس دعا کے ذریعہ سے ان رزائل سے بچنے کی کوشش کرنے اور پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے اور سکھایا گیا ہے کہ کسی ایک ناکامی سے ایسا متاثر ہونا اور اسی کے ہم وحزن میں مبتلا اور قید ہو کر ایسا رہ جانا کہ آئندہ کوئی ترقی ہی نہ کر سکے نہ اسلام کا منشاء ہے اور نہ مسلمانوں کی راہ۔بلکہ مسلمان ایسی