خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 262 of 703

خطبات نور — Page 262

262 وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقر ) (۱۸) اور پھر فرمایا:۔رمضان کے دن بڑے بابرکت دن ہیں۔اب یہ گذرنے کو ہیں۔یہ دن پھر ہم کو اسی رمضان میں نہیں آئیں گے۔نہیں معلوم آئندہ رمضان تک کس کی حیاتی ہے اور کس کی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں خاص احکام دیتے ہیں اور ان پر عمل کرنے کی خاص تاکید کی ہے۔جو لوگ مسافر ہیں یا بیمار ہیں ان کو تو سفر کے بعد اور بیماری سے صحت یاب ہو کر روزے رکھنے کا حکم ہے مگر دوسرے لوگوں کو دن کے وقت کھانا پینا اور بیوی سے جماع کرنا منع ہے۔کھانا پینا بقائے شخص کے لئے نہایت ضروری ہے اور جماع کرنا بقائے نوع کے لئے سخت ضروری ہے۔اس مہینہ میں خدا تعالیٰ نے دن کے وقت ایسی ضروری چیزوں سے رکے رہنے کا حکم دیا تھا۔ان چیزوں سے بڑھ کر اور کوئی چیزیں ضروری نہیں۔بے شک سانس لینا ایک نہایت ضروری چیز ہے مگر انسان اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ اس واسطے بنایا ہے کہ جب انسان گیارہ مہینے سب کام کرتا ہے اور کھانے پینے، بیوی سے جماع کرنے میں مصروف رہتا ہے تو پھر ایسی ضروری چیزوں کو صرف دن کے وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے ایک ماہ کے لئے ترک کر دے۔اور پھر دیکھو جہاں ایک طرف ان ضروری اشیاء سے منع کیا ہے دوسری طرف تدارس قرآن ، قیام رمضان اور صدقہ وغیرہ کا حکم دیا ہے اور اس میں یہ بات سمجھائی ہے کہ جب ضروری چیزیں چھوڑ کر غیر ضروری چیزوں کو خدا کے حکم سے اختیار کیا جاتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے برخلاف غیر ضروری چیزوں کو حاصل کیا جاتا ہے۔رمضان کے مہینہ میں دعاؤں کی کثرت، تدارس قرآن، قیام رمضان کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔حدیث شریف میں لکھا ہے مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّ احْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (بخارى كتاب الصوم باب فضل من قام رمضان) مگر افسوس کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رمضان میں خرچ بڑھ جاتا ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ لوگ روزہ کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں۔سحرگی کے وقت اتنا پیٹ بھر کر کھاتے ہیں کہ دوپہر تک بد ہضمی کے ڈکار ہی آتے رہتے ہیں اور مشکل سے جو کھانا ہضم ہونے کے قریب پہنچا بھی تو پھر افطار کے وقت عمدہ عمدہ کھانے پکوا کے وہ اندھیر مارا اور ایسی شکم پری کی کہ وحشیوں کی طرح نیند پر نیند اور ستی پر ستی آنے لگی۔اتنا خیال نہیں کرتے کہ روزہ تو نفس کے لئے ایک مجاہدہ تھا نہ یہ کہ آگے سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر خرچ کیا جاوے اور خوب پیٹ پر کر کے کھایا جاوے۔