خطبات نور — Page 260
260 نہیں۔اسی طرح میں اوروں پر قیاس کرتا ہوں کہ وہ بھی یہاں آکر الگ تھلگ ہوں گے اور اگر کچھ معمولی سی شراکت ہو گی بھی تو کوشش کرنے سے بالکل الگ رہ سکتے ہیں۔انسان خود بخود اپنے آپ کو پھندوں میں پھنسا لیتا ہے ورنہ بات سہل ہے۔جو لڑکے دوسروں کی نکتہ چینیاں اور غیبتیں کرتے ہیں اللہ کریم ان کو پسند نہیں کرتا۔اگر کسی میں کوئی غلطی دیکھو تو خدا تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کرو کہ وہ اس کی غلطی نکال دیوے اور اپنے فضل سے اس کو راہ راست پر چلنے کی توفیق دیوے۔یاد رکھو اللہ کریم تَوَّابٌ رَّحِيمٌ ہے۔وہ معاف کر دیتا ہے۔جب تک انسان اپنا نقصان نہ اٹھائے اور اپنے اوپر تکلیف گوارا نہ کرے کسی دوسرے کو سکھ نہیں پہنچا سکتا۔بد صحبتوں سے بکلی کنارہ کش ہو جاؤ۔خوب یاد رکھو کہ ایک چوہڑی یا لوہار کی بھٹی یا کسی عطار کی دوکان کے پاس بیٹھنے سے ایک جیسی حالت نہیں رہا کرتی۔ظن کے اگر قریب بھی جانے لگو تو اس سے بچ جاؤ کیونکہ اس سے پھر تجسس پیدا ہو گا۔اور اگر تجتس تک پہنچ چکے ہو تو پھر بھی رک جاؤ کہ اس سے غیبت تک پہنچ جاؤ گے۔اور یہ ایک بہت بری بد اخلاقی ہے اور مردار کھانے کی مانند ہے۔وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (الحجرات:۱۳) تقویٰ اختیار کرو اور پورے پورے پر ہیز گار بن جاؤ۔مگر یہ سب کچھ اللہ ہی توفیق دے تو حاصل ہوتا ہے۔ہم تو انباروں کے انبار ہر روز معرفت کے پیش کرتے ہیں۔گو فائدہ تو ہوتا ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ بہت فائدہ ہو اور بہتوں کو ہو۔خدا تعالیٰ توفیق عنایت فرمادے۔آمین۔الحکم جلد نمبر ۳۹-۰-۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحه ۸-۹) ⭑-⭑-⭑-⭑