خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 214 of 703

خطبات نور — Page 214

214 ثبوتوں میں سے ایک بڑا ثبوت، جس کو قرآن مجید میں بڑی عظمت شان سے بیان فرمایا گیا ہے، ضائع ہو جاوے گا بلکہ چند آیات کریمہ قرآن مجید کی متعلق مباہلہ کے نعوذ باللہ لغو ہو جاویں گی وَتَعَالٰی شَانُ كَلَامِهِ تَعَالَى عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا۔اور ناظرین کو خوب معلوم رہے کہ ان مباہلوں کا نتیجہ یا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں واقع ہوا تھایا بعثت مسیح موعود کے زمانہ میں ہوا ہے۔اس تیرہ سو برس میں کسی مجدد کے وقت میں ایسے مباہلات واقع نہیں ہوئے اور نہ اس کے نتائج۔پس ان آیات کا نشانات واسطے نبوت خاتم النبیین کے ہونا بھی ثابت ہوا ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ اب فرمایا جاتا ہے کہ جو دلائل اور مضامین اوپر مذکور ہوئے ، وہی اخبار اور قصص حقہ ہیں جو پے در پے بیان کئے گئے ہیں۔اور سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک اللہ ہی البتہ زبردست اور حکمت والا ہے۔حال میں چراغ دین جموں پر بموجب پیشین گوئی مندرجہ ”دافع البلا" کے اس ابنا اور سنا یعنی دختر اور خود اس کے نفس پر پورا اثر واقع ہوا اور کوئی کلمہ آیت مباہلہ کا خالی نہ گیا۔فائدہ ذکر کرنے صفت عزیز و حکیم کا یہ ہے کہ جو روایات اسرائیلی یا اکاذیب مخالف علم الہی ہیں ، وہ محض غلط ہیں ایہ اور عیسی میں کوئی صفت یا صفات مختصہ الہیہ میں سے موجود نہیں تھے کیونکہ پھر تو اللہ تعالیٰ کی عزت اور عزیز ہونے میں فرق آجاوے گا اور شان عیسوی ، حضرت ابو البشر اور خاتم النبین سے بھی بڑھ جاوے گی جو خلاف مقتضائے حکمت اس حکیم بر حق کے ہے۔اب باوجود اس قدر اتمام حجت کے جس کی نوبت مباہلہ تک پہنچ گئی ہے اگر اب بھی اس حق کے قبول کرنے سے وہ لوگ اعراض کریں تو سمجھ لو کہ ان کی نیتوں میں فساد ہے۔دوسروں کے عقائد حقہ کو بھی فاسد کو نا چاہتے ہیں۔اندریں صورت اللہ سے بھاگ کر کہاں جاسکتے ہیں کیونکہ مفسدوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے یعنی ان کے فسادوں کی ضرور سزا دیوے گا۔چنانچہ وہ سزا مفسدین کے لئے دنیا میں بھی واقع ہوئی جو نشان نبوت صادقہ کا ہے۔اب چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ایمان لانے پر کمال درجہ کے حریص تھے باوجود یکہ تمام مدارج تبلیغ اور مناظرات کے مباہلہ تک ختم فرما چکے تھے تو بھی ان کی تبلیغ یا فمایش و ہدایت نہ کرنا آپ کا قلب مبارک گوارا نہ کر سکتا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ حسب خواہش آپ کے جو علیم بسرائر الضمائر ہے، ایک دوسرا طریق تبلیغ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تم مباہلہ پر بھی آمادہ نہیں ہوتے تو اے اہل کتاب! آؤ ایسی بات کی طرف رجوع کرو جو ہمارے تمہارے درمیان میں برابر مسلم ہے۔ایک تو یہ کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔دوسرے یہ کہ کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرا دیں۔تیسرے یہ کہ خدا کے سوا بعض ہمارا بعض کو رب نہ قرار دیوے۔پس اگر ایسی سیدھی کچی بات فریقین