خطبات نور — Page 199
199 اے سامعین! قرآن مجید ایک ایسی زندہ کتاب ہے کہ اس کے برکات اور فیوض قیامت تک باقی رہیں گے اس لئے اس کی نسبت فرمایا گیا ہے۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّالَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر:)۔اور اس کی مثال اس طرح پر فرمائی گئی ہے ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً كَلِمَةً طيبةً كَشَجَرَةٍ طيبة أَصْلُهَا نَابِتْ و فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِى أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِإِذْنِ رَبِّهَا (ابراهیم:۲۵)۔پس سرا سر جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ دروازہ مکالمات الہیہ و الہامات ربانیہ کا امت محمدیہ پر بند کیا گیا ہے۔خواہ آیات قرآن مجید کی الہام ہوں یا دوسری عبارات ہوں، ہرگز یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔ہمارا اعتقاد ہے کہ قرآن مجید زندہ کتاب ہے، دین اسلام زندہ مذہب ہے ، نبی کریم زندہ نبی ہیں اور جو قصص قرآن مجید میں بیان فرمائے گئے ہیں ان کے نظائر و امثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی موجود ہوئے اور قیامت تک ان کے نظائر اسلامی دنیا میں واقع ہوتے رہیں گے۔یعنی اللہ تعالیٰ کسی کو اتباع اپنے حبیب سے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔کسی کو آدم صفت نوح صفت ابراہیم صفت اور انبیائے آل ابراہیم کی صفت، آل عمران یعنی مریم اور عیسیٰ کی صفت کر دیتا ہے اور کسی کو مثیل ذکریا گردانتا ہے حتی کہ جری اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ کا لقب عطا فرما دیتا ہے۔اور یہ سب امور قرآن مجید کے احکام کی فرمانبرداری اور اتباع کامل نبی کریم سے حاصل ہوتے ہیں۔وَنِعْمَ مَا قِيلَ بر کے چوں مہربانی میکنی از زمینی آسمانی میکنی لیکن بغیر اتباع کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (ال عمران: ۳۳) واضح ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہود بڑے بڑے دعاوی کرتے تھے حتی کہ کہتے تھے کہ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَاحِبَّاوة (المائدة:1)۔ان کے حق میں یہ آیت زیر تفسیر نازل ہوئی ہے کہ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم! ان یہودیوں سے تم کہہ دو کہ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کا تم دعوی کرتے ہو تو تم میری پیروی کرو کہ اللہ بھی تم کو اپنا دوست کر لیوے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دیوے گا کیونکہ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔فائدہ: اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے بندہ متبع کے ساتھ یہ ہے کہ جو منافع دین و دنیا کے اس بندہ کے لئے ضروری ہوں یا اس کے لئے جو فوائد دارین کے مناسب ہوں ان کو پہنچاتا رہے اور جو لوگ اس کی اتباع میں حارج ہو کر طرح طرح کے ضرر پہنچانا چاہتے ہیں خود انہیں کو معرض مضار اور مورد ذلت اور