خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 176 of 703

خطبات نور — Page 176

176 پر مشکلات آتی ہیں مگر خدا بدلہ دیتا ہے۔ان لوگوں میں تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ دونوں کمالات ہوتے ہیں۔خدا کی کاملہ صفات کے یہ لوگ گرویدہ ہوتے ہیں اور مخلوق کی بے ثباتی اور لاشے ہونا ان کو ہلا تا ہے کہ خدا کا شریک کوئی نہیں ہے۔اگر مزکی ہونا انسان کی اپنی طاقت کا کام ہو تا تو عقلمند اور مادی علوم کے محقق اعلیٰ درجہ کے پار سا ہوتے۔مگر اسی قسم کے لوگ گمراہ خبث ہو کر خدا سے دور چلے جاتے ہیں۔اس لئے مزکی ہونے کے لئے ضرورت ہوتی ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی آدمی جس میں کشش اور جذب کی طاقت ہو، آوے۔اس قسم کے انسان آتے ہیں لیکن لوگوں کے اندر جو غلط کاریاں ہوتی ہیں ان سے بعد ہو جاتا ہے۔ان غلط کاریوں کی ایک بڑی اصل کبر ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اول تواریخی واقعہ میں کیا ہے أَبِي وَاسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ (البقرہ:۳۵)۔اس سے ظاہر ہے کہ اول انکار اور کبر ہی ایک ایسی شے ہے جو کہ فیضان الہی کو روک دیتی ہے۔طاعون کے گذشتہ دورہ میں جو الہام حضرت اقدس کو ہوا تھا اس میں بھی ایک شرط لگی ہوئی تھی کہ إِنِّي أَحَافِظُ كَلَّ مَنْ فِى الدَّارِ إِلَّا الَّذِيْنَ عَلَوْا بِاسْتِكْبَارٍ (تذکرہ)۔کبر تزکیہ نفس کی ضد ہے اور دونوں چیزیں ایک جا جمع نہیں ہو سکتیں۔دوسری بات جو کہ انسانی ترقی کی سد راہ ہوتی ہے وہ اس کا نفاق ہے کہ جب کوئی دکھ ہوتا ہے تو خدا سے لمبے چوڑے وعدے کرتا ہے کہ اگر یہ دکھ مجھ سے دور ہو جاوے تو میں فلاں فلاں کام کروں گا۔تیری عبادت کروں گا۔صدقہ دوں گا۔دین کی خدمت کروں گا۔وغیرہ وغیرہ۔اور ایسے مواقع لوگوں کو بے روزگاری، تنگی معاش کمی تنخواہ اپنی اور بال بچوں کی بیماری وغیرہ میں پیش آتے ہیں۔لیکن جب مشکل کا پہاڑ ٹل جاتا ہے تو سب بھول جاتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ کہ منافق ہو کر مرتے ہیں۔اس کا ذکر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاعْقَبَهُمْ نِفَاقًا (التوبه (۷۷) اباء ، استکبار، بد عهدی یعنی نفاق یہ تین باتیں ہوئیں۔چوتھی جھوٹ کی عادت ہے جو کہ انسان کو فیض الہی سے محروم رکھتی ہے۔پس چاہئے کہ ہمیشہ اپنا اند رونا ٹولتے رہو کہ ان عیبوں میں سے کوئی ہمارے اندر تو نہیں ہے۔ایک طرف محرومی کے اسباب پر غور کرے۔دوسری طرف توبہ و استغفار سے کام لے۔ورنہ یاد رکھو کہ بڑے خطرہ کا مقام ہے۔موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ایک قوم نکلی تھی اور موسیٰ نے ان کو الہی ارادوں سے اطلاع بھی دے دی تھی کہ وہ تم پر انعام کرنا چاہتا ہے اور جنتلا دیا تھا کہ اگر تم حکم نہ مانو گے تو خائب و خاسر ہو گے مگر قوم نے عذر تراشے۔نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس سال جنگل میں بھٹکتے رہے اور ترقی کی رفتار روک دی گئی۔اس سے ظاہر ہے کہ بعض وقت لوگوں کے اعمال ایک امور کو بھی مشکل میں ڈالتے ہیں۔اس لئے تم لوگوں کو فکر چاہئے کہ