خطبات نور — Page 175
175 کپڑے اتار کر بشارت کے عوض میں اس کو پہنا دیے۔مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اس روز میرے پاس وہی کپڑے تھے جو دے دیئے اور میں نے دو کپڑے عاریتاً لے کر پہن لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ کر کے چلا۔راستہ میں لوگ مجھے ملتے تھے اور توبہ کی قبولیت کی تہنیت دیتے تھے اور کہتے تھے کہ تجھے مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول فرمائی حتیٰ کہ میں مسجد میں پہنچا۔وہاں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد مجتمع تھے۔طلح بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ مجھے دیکھ کر کھڑا ہو گیا اور دوڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور تہنیت دی۔واللہ ! مہاجرین میں سے اس سے سوا دوسرا میری خاطر کوئی کھڑا نہیں ہوا۔کعب طلحہ کے اس کام کو ہمیشہ یاد کیا کرتا تھا۔کعب کہتا ہے کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اس وقت آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے دمکتا تھا۔آپ نے فرمایا۔تجھے بشارت ہو ایسے دن کی جب نے تو ماں سے پیدا ہے اس دن سے بہتر کوئی دن تجھ پر نہیں آیا۔میں نے گذارش کی کہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے؟ فرمایا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا چہرہ مبارک خوشی کے وقت ایسا روشن ہو جایا کرتا تھا کہ گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔اور ہم اس حالت کو خوب جانتے تھے۔میں نے آپ کے سامنے بیٹھ کر گذارش کی کہ یا رسول اللہ ! میری توبہ میں سے ہے کہ میں اپنا مال صدقہ کر دوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ مال اپنے لئے رکھ لے کہ یہ تیرے حق میں بہتر ہے۔میں نے عرض کی کہ خیبر کی غنیمت میں سے جو مجھے حصہ ملا تھا وہ میں اپنے لئے رکھتا ہوں۔میں نے پھر عرض کی۔یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے میرے صدق کے سبب مجھے نجات دی ہے۔یہ بھی میری توبہ میں سے ہے کہ آئندہ میں اپنی زندگی میں بچ کے سوا کوئی بات نہ کروں گا۔مجھے خدا تعالی کی قسم ہے کہ جس دن سے میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی ہے اس دن سے کسی مسلمان پر اللہ تعالیٰ نے ایسا انعام نہیں کیا جیسا صدق کے باعث مجھے انعام کیا ہے اور اس دن سے آج تک کبھی جھوٹ نہیں کہا۔اور امید ہے کہ خدا تعالٰی آئندہ بھی مجھے جھوٹ سے محفوظ رکھے گا۔اب دیکھو کہ فرمانبرداری اس کا نام ہے کہ جماعت سے ایک شخص الگ کیا جاتا ہے۔بیوی کو بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اس کے پاس نہ جاوے اور دشمن کی طرف سے دلداری اور امداد کا وعدہ ملتا ہے مگر سرمو فرق نہیں آتا۔غرضیکہ فرمانبرداری میں اپنے آپ کو دیتے وقت یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ کسی شیطان کی بیعت تو نہیں کرتے۔اس لئے کثرت سے استغفار اور لاحول کرنی چاہئے کہ کہیں سابقہ بدیاں اور غلطیاں ٹھوکر کا موجب نہ ہوں۔یہ خدا ہی کا دست قدرت ہوتا ہے جو کہ ایک نبی کا قائمقام کسی کو بناتا ہے۔ان