خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 165 of 703

خطبات نور — Page 165

165 اس لئے ہمارے امام علیہ السلام نے میاں نجم الدین کو ایک روز تاکیدی حکم دیا کہ لوگ جو مہمان خانہ میں مجرد ہیں عام طور پر گوشت ان کو مت دو بلکہ دال بھی پہلی دو اور بعض نادان اس سر کو نہیں سمجھتے اور شور مچاتے ہیں۔پس رسول کریم نے الله اكبر مکانوں اور چھتوں اور دیواروں اور منبروں پر چڑھ کر سنایا۔پس شہوت اور غضب کے وقت بھی اس کو اکبر ہی سمجھو۔ایک شخص کو کسی شخص نے کہا کہ تو جھوٹا ہے۔وہ بہت سخت ناراض ہوا اور اس کی ناراضگی امام کے کان میں پہنچی۔آپ ہنس پڑے اور فرمایا کاش کہ اس قدر غضب کو ترقی دینے کی بجائے اپنے کسی جھوٹ کو یاد کر کے اس کو کم کرتا۔حرص آتی ہے اور اس کے واسطے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور ضرورت کے وقت حلال حرام کا ایک ہی چھرا چلا بیٹھتا ہے۔ایسا نہیں چاہئے۔ایک طرف عمدہ کھانا، دوسری طرف حکم کی خلاف ورزی ، سستی کرنا اور یہ دونوں آپس میں نقیض ہیں۔اس سے عجز اور کسل پیدا ہوتا ہے۔پس ایسی جگہ میں شہوت پر عفت اور حرص پر قناعت اختیار کرے اور مالی اندیشے کر لیا کرے۔مال کی تحصیل میرے نزدیک سہل اور آسان امر ہے۔ہاں حاصل کر کے عمدہ موقع پر خرچ کرنا مشکل امر ہے۔پس ایک طرف خدا شناسی ہو اور دوسری طرف مخلوق پر شفقت ہو۔الله اکبر کا حصول۔چار دفعہ تم اذان کے شروع میں ہر نماز سے پہلے سنتے ہو اور سترہ دفعہ امام تم کو نماز میں سناتا ہے۔پھر حج میں عید میں رسول کریم نے کیسی حکم الہی کی تعمیل کی ہے کہ ہر وقت اس کا اعادہ کرایا۔اور یہ اس لئے کہ انسان جب ایک مسئلہ کو عمدہ سمجھ لیتا ہے تو علم بڑھتا ہے اور علم سے خدا کے ساتھ محبت بڑھتی ہے۔پھر اَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ کہا جاتا ہے۔جس کے معنے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ہی معبود ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔پھر جس طرح خدا نے حکم دیا اس طرح اس کی کبریائی بیان کر۔جس طرح اس نے حکم دیا اسی طرح نماز پڑھ۔اسی طرح اس سے دعائیں مانگ۔پھر یہ طریق کس طرح سیکھنے چاہئیں۔وہ ایک محمد ہے صلی اللہ علیہ و سلم اور وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے، اس سے جا کر سیکھو۔پھر جب ان احکام کی تعمیل میں تو مستعد ہو جاوے تو حَتَّى عَلَى الصَّلوٰۃ۔آنماز پڑھ کہ وہ تجھے بدی سے روکے۔پھر نماز کے معانی سیکھنا کوئی بڑی بات نہیں۔کو دن سے کو دن آدمی ایک ہفتہ میں یاد کر لیتا ہے۔ایک امیر میرا مربی تھا۔اس کے دروازہ پر ایک پوربی شخص صبح کے وقت پہرہ دیا کرتا تھا۔ایک دن جو وہ صبح کی نماز کو نکلے تو وہ خوش الحانی سے گا رہا تھا۔کہا تم یہاں کیوں کھڑے ہو ؟ جواب دیا کہ پہرہ دار ہوں۔انہوں نے کہا۔اچھا تمہارا پہرہ دن میں دو گھنٹہ کا ہوتا ہے، ہم تمہارا پہرہ پانچ وقت میں بدل دیتے