خطبات نور — Page 164
164 طبیب ہے وغیرہ وغیرہ۔جب پیسہ دینے والے کے دل میں یہ ہے کہ مجھے ایسا مال اس قیمت کے بدلہ میں ملنا چاہئے ، اگر اس کو اس نے نتیجہ تک نہیں پہنچایا تو ضرور حرام خوری کرتا ہے اور یہ سب باتیں اس وقت موجود نہیں۔خدا کی پرستش میں ایسے سست تھے کہ حقیقی خدا کو چھوڑ کر پتھر، حیوانات وغیرہ مخلوقات کی پرستش شروع کی ہوئی تھی۔اس قوم کی بت پرستی کی نظیریں اب موجود ہیں۔ابھی ایک بی بی ہمارے گھر میں آئی تھی اور میرے پاس بیان کیا گیا کہ بہت نیک بخت اور خدارسیدہ ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وظیفہ کرتی ہو؟ کہا مشکل کے وقت اپنے پیروں کو پکارتی ہوں۔پس مجھے خیال ہوا کہ یہ پہلی سیڑھی پر ہی خطا پر ہے یعنی خدا کو چھوڑ کر شرک میں مبتلا ہے۔پس رسول کریم کے زمانہ میں ایک طرف خدا کی بڑائی ، دوسری طرف مخلوق سے شفقت چھوٹ گئی تھی اور خدا کی جگہ مخلوق کو خدا بنایا گیا تھا اور مخلوق کو سکھ پہنچانے کے بدلے لاکھوں تکالیف پہنچائی جاتی تھیں۔اس لئے فرمایا۔انذِرُ ڈرانے کی خبر سنادے۔جب مرسل اور مامور آتے ہیں تو پہلے یہی حقوق ان کو سمجھائے جاتے ہیں۔پس ایسے وقت میں امراض طاعون وغیرہ آتے ہیں۔جنگ و قتال ہوتے ہیں۔یہ ضرورت نہیں کہ اس مامور کی اطلاع پہلے دی جاوے یا ان لوگوں کو مامور کا علم ہو۔کیونکہ لوگ تو پہلے خدا ہی کو چھوڑ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔پھر کھڑا ہو کر کیا کرو ؟ وَرَبَّكَ فَكَتِر خدا کی بزرگی بیان کر۔اکبر سے آگے بڑائی کا کوئی لفظ نہیں اور اس کے معنی ہی یہی ہیں کہ ایک وقت آقا کہتا ہے کہ میرا فلاں کام کرو۔دوسری طرف ایک شخص پکارتا ہے اللہ اکبر آؤ نماز پڑھو۔خدا سے بڑا آقا کوئی نہیں۔ایک طرف بی بی عید کا سامان مانگتی ہے۔دوسری طرف خدا کہتا ہے کہ فضولی نہ کر۔اب یہ کدھر جاتا ہے۔نیک معاشرت‘ نیک سلوک بی بی کی رضا جوئی اور خوش رکھنے کا حکم ہے اور مال جمع کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف حکم ہے کہ ناجائز مال مت کھاؤ۔ایک طرف عفت اور عصمت کا حکم ہے، دوسری طرف بی بی موجود نہیں، ناصح کوئی نہیں اور نفس چاہتا ہے کہ عمدہ گوشت، گھی ، انڈے، زعفرانی، متنجن کباب کھانے کے واسطے ہوں۔پھر رمضان میں اس سے بھی کچھ زیادہ ہوں۔اب بی بی تو ہے نہیں۔علم اور عمدہ خیالات نہیں۔پس اگر خدا کے حکم کے خلاف کرتا ہے اور نفس کی خواہش کے مطابق عمدہ اغذیہ کھاتا ہے تو لواطت ،جلق زنا بد نظری میں مبتلا ہو گا۔اسی لئے تو اصفیا نے لکھا ہے کہ انسان ریاضت میں سادہ غذا کھاوے۔