خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 163 of 703

خطبات نور — Page 163

163 ہو کہ چاروں اشخاص پر بادشاہ کی سواری کا کیا اثر ہوا ہو گا۔پہلے شخص نے تو شاید اس کی طرف دیکھا بھی نہ ہو۔دوسرے نے کچھ توجہ اس کی طرف کی ہوگی اور تیسرے نے ضرور اس کو سلام بھی کیا ہو گا اور اس کا ادب بھی کیا ہو گا۔پر چوتھے شخص پر اس کے رعب و جلال کا اس قدر اثر ہوا ہو گا کہ وہ کانپ گیا ہو گا کہ میرا بادشاہ آیا ہے۔کوئی حرکت مجھ سے ایسی نہ ہو جاوے جس سے یہ ناراض ہو جاوے۔غرض کہ اس پر از حد اثر ہوا ہو گا۔پس یہی حال ہوتا ہے انبیاء اور مرسل علیہم السلام کا۔کیونکہ خوف اور لرزہ معرفت پر ہوتا ہے۔جس قدر معرفت زیادہ ہو گی اسی قدر اس کو خوف اور ڈر زیادہ ہو گا اور وہ معرفت اس کو خوف میں ڈالتی ہے اور اس لرزہ کے واسطے ان کو ظاہری سامان بھی کرنا پڑتا ہے۔یعنی موٹے اور گرم کپڑے پہننے پڑتے ہیں جو لرزہ میں مدد دیں۔جب وہ الہام کی حالت جاتی رہی تو ان کے اعضاء اور اندام بلکہ بال بال پر ایک خاص خوبصورتی آجاتی ہے۔پس اسی حالت میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ مخاطب فرما کر کہتا ہے کہ اے کپڑا اوڑھنے والے اور لرزہ کے واسطے سامان اکٹھا کرنے والے! کھڑا ہو جا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سست مومن اللہ تعالیٰ کو پیارا نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو پہلا حکم یہی ملا۔پس یہی وجہ ہے کہ آج تک مسلمان واعظ جب احکام الہی سنانے کے واسطے کھڑے ہوتے ہیں تو کھڑے ہو کر سناتے ہیں۔یہ اسی قسم کی تعمیل ہوتی اور اس میں نبی کریم کی اتباع کی جاتی ہے۔بعض لوگ غافل اور سست نہ تو سامان بہم پہنچاتے اور نہ ان سامان سے کام لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں فرصت نہیں۔پر یہ ساری ضرورتیں جو ہم کو ہیں نبی کریم کو بھی تھیں۔بیوی بچے اہل و عیال وغیرہ وغیرہ۔پر جب اس قسم کا حکم آیا فوراً کھڑے ہو گئے اس لئے کہ بادشاہ رب العالمین، احکم الحاکمین کا حکم تھا۔پھر کام کیا سپرد ہوا۔انذِرُ۔۔لوگ دو باتوں میں گرفتار تھے اور ہیں۔وہ خدا کی عظمت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور کھانے پینے عیش و آرام اور آسائش میں مصروف ہو گئے تھے۔دوسرا باہمی محبت اخلاص، پیار نام کو نہیں رہا تھا۔دوسروں کے اموال دھو کہ بازی سے کھا جاتے۔مثلاً ہمارے پیشہ کی طرف ہی توجہ کرو۔گندے سے گندے نسخے بڑی بڑی گراں قیمتوں سے فروخت کئے جاتے اور دھو کہ بازی سے لوگوں کا مال کھایا جاتا ہے۔دوسروں کی عزت مال جان پر بڑے بے باک تھے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ کسی نابینا کی لکڑی ہنسی سے اٹھا لینا کہ وہ حیران و سرگرداں ہو ، سخت گناہ ہے۔پر ہنسی ٹھٹھاپر کچھ پروا نہیں۔بد نظری بدی بد کاری سے پر ہیز نہیں۔کوئی شخص نہیں چاہتا کہ میرا نو کر میرے کام میں سست ہو۔پر جس کا یہ نوکر ہے کیا اس کے کام میں سستی نہیں کرتا؟ دوکاندار ہے۔