خطبات نور — Page 162
۲ / دسمبر ۱۹۰۴ء 162 خطبہ جمعہ يَايُّهَا الْمُدَّثِرُ - قُمْ فَانْذِرُ - وَرَبَّكَ فَكَبِّرُ (المدثر: ۲تا۴) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے یہ آیت اس لئے انتخاب کی ہے کہ تمہیں بتلاؤں کہ کیا کرنا چاہئے اور اس کے لئے ہمیں کیسی تحریکیں اور تنبیہیں دی جاتی ہیں۔پر ہم ایسے غافل ہیں کہ کانوں پر جوں نہیں رینگتی اور ہم کانوں سے غفلت کی روئی نہیں نکالتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی وحی کے بعد جو دوسری وحی ہوئی وہ یہی آیت ہے۔یايُّهَا الْمُدَّثِرُ قہ مرسل کو جب وحی ہوتی ہے تو اس پر خدا کے کلام اور اس کی ہیبت کا ایک لرزہ آتا ہے۔کیونکہ مومن حقیقت میں خدا تعالیٰ کا ڈر اور خشیت اور خوف رکھتا ہے۔جس طرح کوئی بادشاہ ایک بازار یا سڑک پر سے گزرتا ہے اس سڑک میں ایک زمیندار جاہل جو بادشاہ سے بالکل ناواقف ہے کھڑا ہے۔دو سرا وہ شخص ہے جو زمیندار ہے، پر صرف اس قدر جانتا ہے کہ یہ کوئی بڑا آدمی ہے یا شاید حاکم وقت ہو میرا وہ شخص کھڑا ہے کہ وہ منجملہ اہالیان ریاست ہے اور خوب جانتا ہے کہ یہ بادشاہ ہے اور ہمارا حاکم ہے۔اور چوتھا وہ شخص کھڑا ہے جو بادشاہ کا درباری یا وزیر ہے۔اس کے آداب و قواعد آئین و انتظام ، رعب و داب رنج اور خوشی کے سب قواعد کا واقف اور جاننے والا ہے۔پس تم جان سکتے