خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 131 of 703

خطبات نور — Page 131

131 غرض وعظ کا اصل تو مختصر سا تھا مگر مضمون لمبا ہو گیا ہے اس لئے پھر میں مختصر الفاظ میں کہتا ہوں کہ اصل غرض اور منشاء دین کا سعادت اور شقاوت کی راہوں کا بیان کرنا ہے۔ایمان باللہ ایمان بالملائکہ اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان جزا و سزا پر ایمان ہو اور پھر اس ایمان کے موافق عمل در آمد ہو اور ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ کرو۔آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں اور یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھ ہو۔قرآن تمہارا دستور العمل ہو۔باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضان الہی کو روکتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام کی قوم جنگل میں اسی نقص کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قوم نے احتیاط کی اور وہ کامیاب ہو گئے۔اب تیسری مرتبہ تمہاری باری آئی ہے۔اس لئے چاہئے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غسال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ۔اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو۔وحدت کو ہاتھ سے نہ دو۔دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کو تاہی نہ کرو۔تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آسکتا۔پس اس نعمت کا شکر کرو۔کیونکہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے۔لَئِنْ شَكَرْتُمْ لازِيدَنَّكُمْ (ابراهیم) لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یاد رکھے إِنَّ عَذَابِی لَشَدِيدٌ (ابراهیم:۸) اب میں ایک تحریک کر کے ختم کرتا ہوں۔دیکھو یہاں کئی قسم کے چندے اور ضرور تیں ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ چندوں کی کیا ضرورت ہے وہ غلطی کرتے ہیں۔انْفِقُوْا فِي سَبِيلِ اللَّهِ (البقرة) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔اگر تم اس پر عمل نہیں کرتے تو ہلاک ہو جاؤ گے۔کئی قسم کی ضرورتیں در پیش ہیں۔حضرت امام کی تعلیم کی اشاعت اور تبلیغ مہمانوں کی خبر گیری مکانات کی توسیع کی ضرورت مدرسہ کی ضروریات غرباء و مساکین رہتے ہیں ان کا انتظام مدرسہ میں غریب طالب علم ہیں ان کے خرچ کا کوئی خاص طور پر متکفل نہیں اور مستقل انتظام نہیں۔اس کے علاوہ اور بہت سی ضروریات ہیں۔اسی مسجد کا خادم ایک بڑھا ہے اور حضرت اقدس کا ایک سچا خادم حافظ معین الدین ہے۔ایسے لوگوں کی خبر گیری کی ضرورت ہے۔غرض یہاں کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ہر شخص کو جو کچھ اس سے ہو سکے اپنے مال سے کپڑے سے الگ کرنا چاہئے۔یہ مت خیال کرو کہ بہت ہی ہو ، کچھ ہو خواہ ایک پائی ہی کیوں نہ ہو۔ہر قسم کا کپڑا یہاں کام آسکتا ہے۔پس یہاں کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر ان میں دینے