خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 13
13 بچاؤ اور اپنی اولادوں کو بھی بچاؤ۔نوجوان لڑکے لڑکیاں جو اس معاشرے میں رہ رہے ہیں ان کو بھی میں کہتا ہوں کہ یہ تمہاری زندگی کا مقصد نہیں ہے۔یہ نہ سمجھو کہ یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے کہ اس لہو و لعب میں پڑا جائے ، یہی ہمارے لئے سب کچھ ہے۔ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے تمہارے میں اور غیر میں فرق ہونا چاہئے۔اسی طرح ہر احمدی کو ہر قسم کے ظلم سے بچنے کی ضرورت ہے۔آپس میں محبت اور نظام جماعت کی پابندی آپس میں محبت و پیار اور بھائی چارے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ہر قسم کے دھوکے سے اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت ہے۔نظامِ جماعت کی پابندی کی ضرورت ہے۔جماعت احمدیہ کی خوبصورتی تو نظامِ جماعت ہی ہے۔اگر اس خوبصورتی سے دور ہٹ گئے تو ہمارے میں اور غیر میں کیا فرق رہ جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ تم نمازیں فرمایا ہے کہ جماعت احمدیہ کی خوبصورتی تو نظام جماعت ہی ہے بھی نمازیں پڑھتے ہو وہ پڑھتے ہیں۔تم روزے رکھتے ہو دوسرے مسلمان بھی روزے رکھتے ہیں۔تم حج پر جاتے ہو دوسرے بھی حج پر جاتے ہیں۔یا بعض صدقات بھی دیتے ہیں تو کوئی فرق ہونا چاہئے۔ایک بڑا واضح فرق نظام جماعت ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلافت سے تو ہمارا وفا کا تعلق ہے لیکن جماعتی نظام سے اختلاف ہے۔جماعتی نظام بھی خلافت کا بنایا ہوا نظام ہے۔اگر کسی عہدیدار سے شکایت ہے تو خلیفہ وقت کولکھا جاسکتا ہے۔اس کی شکایت کی جا سکتی ہے۔لیکن نظام جماعت کی اطاعت سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔