خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 26

خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 18

18 بارے میں بڑا اچھا کام کیا ہے کہ پردہ عورت کی عزت کے لئے ہے اور یہ تصور ہے جو مذہب دیتا ہے، ہر مذہب نے دیا ہے کہ عورت کی عزت قائم کی جائے۔بعضوں نے تو پھر بعد میں اس کی صورت بگاڑ لی۔عیسائیت میں تو ماضی میں زیادہ دور کا عرصہ بھی نہیں ہوا جب عورت کے حقوق نہیں ملتے تھے اور اس کو پابند کیا جاتا تھا، بعض پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا۔تو بہر حال یہ عورت کی عزت کے لئے ہے۔عورت کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنی عزت چاہتی ہے اور ہر شخص چاہتا ہے لیکن عورت کا ایک اپنا وقار ہے جس وقار کو وہ قائم رکھنا چاہتی ہے اور رکھنا چاہئے۔اور اسلام عورت کی عزت اور احترام اور حقوق کا سب سے بڑا علمبر دار ہے۔پس یہ کوئی جبر نہیں ہے کہ عورت کو پردہ پہنایا جاتا ہے یا حجاب کا کہا جاتا ہے۔بلکہ عورت کو اس کی انفرادیت قائم کرنے اور مقام دلوانے کے لئے یہ سب کوشش ہے۔احمدی بچیوں کو نصیحت کہ فیشن کی رو میں نہ بہہ جائیں اس کے ساتھ ہی میں ان احمدی لڑکیوں کو بھی کہتا ہوں جو کسی قسم کے complex میں مبتلا ہیں کہ اگر دنیا کی باتوں سے گھبرا کر یا فیشن کی رو میں بہہ کر انہوں نے اپنے حجاب اور پر دے اتار دیئے تو پھر آپ کی عزتوں کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔آپ کی عزت دین کی عزت کے ساتھ ہے۔میں پہلے بھی ایک مرتبہ ایک واقعہ کا ذکر کر چکا ہوں۔اس طرح کے کئی واقعات ہیں۔ایک احمدی بچی کو اس کے باس (Boss) نے نوٹس دیا کہ اگر تم حجاب لے کر دفتر آئی تو تمہیں کام سے فارغ کر دیا جائے گا اور ایک مہینہ کا نوٹس ہے۔اس بچی نے دعا کی کہ اے اللہ ! میں تو تیرے حکم کے مطابق یہ کام کر رہی ہوں اور تیرے دین پر عمل کرتے ہوئے یہ پردہ کر رہی ہوں۔کوئی صورت نکال۔اور اگر ملازمت میرے لئے اچھی نہیں