خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 26

خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 7

اجازت دی ہوئی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ سب فضل ہم پر احمدیت کی وجہ سے کئے ہیں۔پس یہ پھر اس طرف توجہ دلانے والی چیز ہے کہ احمدیت کے ساتھ اس طرح چمٹ جائیں جو ایک مثال ہو تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی شکر گزاری ہوگی۔جماعت کی قدر کریں اگر جماعت کی قدر نہیں کریں گے اگر خلیفہ وقت کی باتوں پر کان نہیں دھریں گے تو آہستہ آہستہ نہ صرف اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں سے دور کر رہے ہوں گے بلکہ اپنی نسلوں کو بھی دین سے دور کرتے چلے جائیں گے۔پس غور کریں، سوچیں کہ اگر یہ دنیا آپ کو دین سے دور لے جارہی ہے تو یہ انعام نہیں ہلاکت ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بے قدری ہے۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ہم نے اس زمانے کے امام کی بیعت کی ہے جس کے آنے کی ہر قوم منتظر ہے۔جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے پیار کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام بھیجا ہے۔(النجم الاوسط جلد 3 من اسمہ عیسی حدیث نمبر 4898 صفحہ 384-383 - دار الفکر، عمان - اردن طبع اول 1999 ء امین بھی دل 1908 ) تو کیا ایسے شخص کی طرف منسوب ہونا کوئی معمولی چیز ہے؟ یقینا یہ بہت بڑا اعزاز ہے جو ایک احمدی کو ملا ہے۔پس اس اعزاز کی قدر کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔یہ قدر پھر ایک حقیقی احمدی کو عید شکور بنائے گی اور پھر وہ خدا تعالی کے فضلوں کو پہلے سے بڑھ کر اترتے دیکھے گا۔