خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 50

خطبه الهاميه اردو ترجمہ۔فَلَا تَغْفَلُوْا عَنْ هَذَا الْمَقَامِ میں پہنچ سکتا ہے۔پس اس مقام سے غافل يَاكَافَّةَ الْبَرَايَا وَلَا عَنِ مت ہو۔اے مخلوق کے گروہ ! اور نہ اس السرّ الَّذِي يُوْجَدُ فِي الضَّحَايَا بھید سے غافل ہو جو قربانیوں میں پایا جاتا وَاجْعَلُوا الصَّحَايَا لِرُؤْيَةِ ہے۔اور قربانیوں کو اس حقیقت کے دیکھنے تِلْكَ الْحَقِيْقَةِ كَالْمَرَايَا وَلَا کے لئے آئینوں کی طرح بنا دو اور ان تَذْهَلُوْا عَنْ هَذِهِ الْوَصَايَا وصیتوں کومت بھلاؤ۔اور ان لوگوں کی وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوْا طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے اپنے خدا اور رَبَّهُمْ وَالْمَنَايَا۔وَقَدْ أُشِيْرَ اپنی موت کو بھلا رکھا ہے۔اور اس پوشیدہ إلى هذا السِّرِّ الْمَكْتُومِ بھید کی طرف خدا تعالیٰ کے کلام میں اشارة فِي كَلَامِ رَبِّنَا الْقَيُّوْمِ۔فَقَالَ کی گئی ہے۔چنانچہ خدا جو اصدق الصادقین وَهُوَ أَصْدَقُ الصَّادِقِينَ۔ہے اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِ کہہ دے کہ میری نماز اور میری عبادت اور وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ میری قربانی اور میری زندگی اور میری الْعَلَمِينَ ، فَانْظُرْ كَيْفَ فَسَّرَ موت سب اس خدا کے لئے ہے جو النُّسُكَ بِلَفْظِ الْمَحْيَا پروردگار عالمیان ہے۔پس دیکھ کہ کیونکر وَالْمَمَاتِ وَاَشَارَ بِهِ إِلى نُسُک کے لفظ کی حیات اور ممات کے لفظ حَقِيقَةِ الْأَضْحَاةِ۔فَفَكَّرُوْا سے تفسیر کی ہے اور اس تفسیر سے قربانی کی فِيْهِ يَا ذَوِي الْحَصَاةِ۔وَمَنْ حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے پس اے ضَحَى مَعَ عِلْمٍ حَقِيقَةِ عقلمندو! اس میں غور کرو اور جس نے اپنی ضَحِيَّتِهِ۔وَصِدْقِ طَوِيَّتِهِ قربانی کی حقیقت کو معلوم کر کے قربانی ادا وَخُلُوْصِ نِيَّتِهِ فَقَدْ ضَحی کی اور صدق دل اور خلوص نیت کے بِنَفْسِهِ وَمُهْجَتِهِ ، وَأَبْنَاءِ ساتھ ادا کی پس بہ تحقیق اس نے اپنی جان الانعام : ١٦٣