خطبة اِلہامِیّة — Page 45
خطبه الهاميه ۴۵ اردو ترجمہ عَلَى أَنَّ الْعَابِدَ فِي الْحَقِيْقَةِ بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقی پرستار اور سچا عابد وہی شخص ہے هُوَ الَّذِي ذَبَحَ نَفْسَهُ وَ قُوَاهُ۔جس نے اپنے نفس کو مع اس کی تمام قوتوں اور مع اس کے اُن ۴ وَكُلَّ مَنْ أَصْبَاهُ لِرِضی محبوبوں کے جن کی طرف اُس کا دل کھینچا گیا ہے اپنے رب کی رَبِّ الْخَلِيْقَةِ وَ ذَبَّ الْهَوَاى رضا جوئی کیلئے ذبح کر ڈالا ہے۔اور خواہش نفسانی کو دفع کیا حَتَّى تَهَافَتَ وَالْمَحَى۔یہاں تک کہ تمام خواہشیں پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں اور نابود وَ ذَابَ وَغَابَ وَاخْتَفی ہو گئیں اور وہ خودبھی گداز ہو گیا اور اس کے وجود کا کچھ نمونہ رہا اور وَهَبَّتْ عَلَيْهِ عَوَاصِفُ | چھپ گی اور فنا کی تند ہوائیں اس پر چلیں اور اس کے وجود کے الفَنَاءِ ، وَسَفَتْ ذَرَّاتِهِ ذرات کو اس ہوا کے سخت دھکے اڑا کر لے گئے۔اور جس شخص شَدَائِدُ هَذِهِ الْهَوْجَاءِ نے ان دونوں مفہوموں میں کہ جو باہم نُسک کے لفظ وَمَنْ فَكَرَ فِي هذين میں مشارکت رکھتے ہیں غور کی ہوگی اور اس مقام کو تدبر کی نگاہ الْمَفْهُوْمَيْنِ الْمُشْتَرِ كَيْنِ سے دیکھا ہوگا اور اپنے دل کی بیداری اور دونوں آنکھوں کے وَتَدَبَّرَ الْمَقَامَ بِتَيَقُظِ الْقَلْبِ کھولنے سے پیش و پس کو زیر نظر رکھا ہوگا پس اس پر پوشیدہ نہیں وَفَتْحِ الْعَيْنَيْنِ۔فَلَا يَبْقى رہے گا اور اس امر میں کسی قسم کی نزاع اس کے دامن کو نہیں لَهُ خِفَاءٌ وَلَا مِرَاء فِی پکڑے گی کہ یہ دو معنوں کا اشتراک کہ جو نسک کے لفظ میں اَنَّ هَذَا إِيْمَاء۔إلى آن پایا جاتا ہے اس بھید کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عبادت جو آخرت الْعِبَادَةَ الْمُنْجِيَّةَ مِنَ کے خار سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کا ذبح کرنا ہے کہ الْخَسَارَةِ۔هِی ذَبْحُ جو بُرے کاموں کیلئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم ۵۔النَّفْسِ الْأَمَّارَةِ۔وَنَحْرُهَا ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتا رہتا ہے پس نجات اس میں ہے کہ حکم بِمُدَى الْإِنْقِطَاعِ إِلَى اللهِ اس بُرا حکم دینے والے کو انقطاع الی اللہ کے کاروں سے ذبح کر ذِي الْآلَاءِ وَ الأمْرِ وَ دیا جائے اور خلقت سے قطع تعلق کر کے خدا تعالی کو اپنا مونس اور الْإِمَارَةِ۔مَعَ تَحَمُلِ آرام جان قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ انواع اقسام کی أَنْوَاعِ الْمَرَارَةِ لِتَنْجُوَ تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے تا نفس غفلت کی موت سے۔