خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 45

خطبه الهاميه لده اردو ترجمہ عَلَى أَنَّ الْعَابِدَ فِي الْحَقِيقَةِ بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقی پرستار اورسچا عابد وہی شخص ہے هُوَ الَّذِي ذَبَحَ نَفْسَهُ وَ قُوَاهُ ۔ جس نے اپنے نفس کو مع اس کی تمام قوتوں اور مع اس کے اُن ) وَكُلَّ مَنْ أَصْبَاهُ لِرِضی محبوبوں کے جن کی طرف اُس کا دل کھینچا گیا ہے اپنے رب کی رَبِّ الْخَلِيقَةِ وَ ذَبَّ الْهَوى ۔ رضا جوئی کیلئے ذبح کر ڈالا ہے۔ اور خواہش نفسانی کو دفع کیا حَتَّى تَهَافَتَ وَالْمَحْى یہاں تک کہ تمام خواہشیں پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں اور نابود وَ ذَابَ وَغَابَ وَاخْتَفى ۔ ہو گئیں اور وہ خود بھی گداز ہو گیا اور اس کے وجود کا کچھ نمودند رہا اور وَهَبَّتْ عَلَيْهِ عَوَاصِفُ چھپ گیا اور نا کی تند ہوائیں اس پر چلیں اور اس کے وجود کے الفَنَاءِ ، وَسَفَتْ ذَرَّاتِهِ ذرات کو اس ہوا کے سخت دھکے اُڑا کر لے گئے ۔ اور جس شخص شَدَائِدُ هَذِهِ الْهَوْجَاءِ نے ان دونوں مفہوموں میں کہ جو باہم نُسُک کے لفظ وَمَنْ فَكَرَ فِي هَذَيْنِ میں مشارکت رکھتے ہیں غور کی ہوگی اور اس مقام کو تدبر کی نگاہ الْمَفْهُوْمَيْنِ الْمُشْتَرِ كَيْنِ ۔ سے دیکھا ہوگا اور اپنے دل کی بیداری اور دونوں آنکھوں کے وَتَدَبَّرَ الْمَقَامَ بِتَيَقُظِ الْقَلْبِ کھولنے سے پیش و پس کو زیر نظر رکھا ہوگا پس اس پر پوشیدہ نہیں وَفَتْحِ الْعَيْنَيْنِ ۔ فَلَا يَبْقی رہے گا اور اس امر میں کسی قسم کی نزاع اس کے دامن کو نہیں لَهُ خِفَاءٌ وَلَا مِرَاءٌ فِي پکڑے گی کہ یہ دو معنوں کا اشتراک کہ جو نسک کے لفظ میں أَنَّ هَذَا إِيْمَاء إِلَى أَنَّ پایا جاتا ہے اس بھید کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عبادت جو آخرت الْعِبَادَةَ الْمُنْجِيَةَ مِنَ کے خسارہ سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کا ذبح کرنا ہے کہ الْخَسَارَةِ ۔ هِيَ ذَبْحُ جو بُرے کاموں کیلئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم ۵ النَّفْسِ الْأَمَّارَةِ ۔ وَنَحْرُهَا ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتا رہتا ہے پس نجات اس میں ہے کہ بِمُدَى الْإِنْقِطَاعِ إِلَى اللهِ اس بُرا حکم دینے والے کو انقطاع الی اللہ کے کاروں سے ذبح کر ذِي الْآلَاءِ وَ الْأَمْرِ وَ دیا جائے اور خلقت سے قطع تعلق کر کے خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور الْإِمَارَةِ ۔ مَعَ تَحَمَّلِ آرام جاں قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ انواع اقسام کی أَنْوَاعِ الْمَرَارَةِ لِتَنْجُوَ تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے تا نفس غفلت کی موت سے