خطبة اِلہامِیّة — Page 38
خطبه الهاميه ۳۸ اس حدیث کو سمجھ لیا ہے۔لیکن یادر ہے کہ یہ کہانی نہیں ہے اور خدا تعالیٰ لغو کاموں سے پاک ہے بلکہ اس حدیث کے ان الفاظ میں جو اول دمشق کا ذکر فر مایا اور پھر اس کے شرقی طرف ایک منارہ قرار دیا ایک عظیم الشان راز ہے اور وہ وہی ہے جو ابھی ہم بیان کر چکے ہیں۔یعنی یہ کہ تثلیث اور تین خداؤں کی بنیاد دمشق سے ہی پڑی تھی۔کیا ہی منحوس وہ دن تھا جب پولوس یہودی ایک خواب کا منصوبہ بنا کر دمشق میں داخل ہوا اور بعض سادہ لوح عیسائیوں کے پاس یہ ظاہر کیا کہ خدا وند مسیح مجھے دکھائی دیا اور اس تعلیم کے شائع کرنے کیلئے ارشاد فرمایا کہ گویا وہ بھی ایک خدا ہے بس وہی خواب تثلیث کے مذہب کی تخم ریزی تھی۔غرض یہ شرک عظیم کا کھیت اول دمشق میں ہی بڑھا اور پھولا اور پھر یہ زہر اور اور جگہوں میں پھیلتی گئی۔پس چونکہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ انسان کو خدا بنانے کا بنیادی پتھر اول دمشق میں ہی رکھا گیا اس لئے خدا نے اُس زمانہ کے ذکر کے وقت کہ جب غیرت خدا وندی اس باطل تعلیم کو نا بود کرے گی پھر دمشق کا ذکر فرمایا اور کہا کہ مسیح کا منارہ یعنی اُس کے نور کے ظاہر ہونے کی جگہ دمشق کی مشرقی طرف ہے۔اس عبارت سے یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ منارہ دمشق کی بقیه حاشیه الجمعة ٤ سُمّى أقصى لبعده من زمان النبوّة ولما وقع في اقصى طرف من زمن ابتداء الاسلام فتدبر هذا المقام فانه اودع اسرارا من الله العلام۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج تین قسم پر منقسم ہے۔سیر مکانی اور سیر زمانی اور سیر لا مکانی ولا زمانی سیر مکانی میں اشارہ ہے طرف غلبہ اور فتوحات پر یعنی یہ اشارہ کہ اسلامی ملک مکہ سے بیت المقدس تک پھیلے گا۔اور سیر زمانی میں اشارہ ہے طرف تعلیمات اور تاثیرات کے یعنی یہ کہ مسیح موعود کا زمانہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات سے تربیت یافتہ ہوگا جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ۔اور سیر لا مکانی ولا زمانی میں اشارہ ہے طرف اعلیٰ درجہ کے قرب اللہ اور مدانات کی جس پر دائرہ امکان قرب کا ختم ہے۔فافهم۔منه