خطبة اِلہامِیّة — Page 37
خطبه الهاميه ۳۷ اب ہمارے مخالف گو اس دمشقی حدیث کو بار بار پڑھتے ہیں مگر وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے کہ یہ جو اس حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ مسیح موعود دمشق کی شرقی طرف کے منارہ کے قریب نازل ہوگا اس میں کیا بھید ہے بلکہ انہوں نے محض ایک کہانی کی طرح بقیه حاشيه پس چونکہ مسیح اور مہدی موعود کا زمانہ زمان البرکات تھا اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کے حق میں فرمایا بَارَكْنَا حَوْلَۂ یعنی مسیح موعود کی فرودگاہ کے ارد گرد جہاں نظر ڈالو گے ہر طرف سے برکتیں نظر آئیں گی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ زمین کیسی آباد ہوگئی باغ کیسے بکثرت ہو گئے نہریں کیسی بکثرت جاری ہو گئیں تمدنی آرام کی چیزیں کیسی کثرت سے موجود ہوگئیں۔ پس یہ زمینی برکات ہیں ۔ اور جیسے اس زمانہ میں زمینی اور آسمانی برکتیں بکثرت ظاہر ہوگئی ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تائیدات کا بھی ایک دریا چل رہا تھا۔ فحاصل البيان ان الزمان زمانان زمان التائيدات ودفع الآفات و زمان البركات والطيبات واليه اشار عزاسمه بقوله سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ فاعلم ان لفظ مسجد الحرام في قوله تعالى يدل على زمان فيه ظهرت عزة حرمات الله بتائيد من الله وظهرت عزة حدوده و احکامه و فرائضه و تراءت شوكة دينه ورعب ملته۔ وهو زمان نبينا صلى الله عليه وسلم۔ والمسجد الحرام البيت الذي بناه ابراهيم عليه السلام في مكة وهو موجود الى هذا الوقت حرسه الله من كل آفة۔ واما قوله عزاسمه بعد هذا القول اعنى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ فيدلّ على زمان فيه يظهر بركات في الارض من كل جهة كما ذكرناه أنفا وهو زمان المسيح الموعود والمهدى المعهود والمسجد الاقصى هو المسجد الذي بناه المسيح الموعود في القاديان