خطبة اِلہامِیّة — Page 31
خطبه الهاميه ۳۱ کے صفحہ ۵۲۲ میں درج ہے۔اور وہ یہ ہے : - بخرام کہ وقت تو نز دیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔ایسا ہی مسیح موعود کی مسجد بھی مسجد اقصی ہے کیونکہ وہ صدر اسلام سے دُور تر اور انتہائی زمانہ پر ہے۔اور ایک روایت میں خدا کے پاک نبی نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ مسیح موعود کا نزول مسجد اقصی کے شرقی منارہ کے قریب ہوگا۔حاشيه بعض احادیث میں یہ پایا جاتا ہے کہ دمشق کے مشرقی طرف کوئی منارہ ہے جس کے قریب مسیح کا نزول ہوگا۔سو یہ حدیث ہمارے مطلب سے کچھ منافی نہیں ہے کیونکہ ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ ہمارا یہ گاؤں جس کا نام قادیاں ہے اور ہماری یہ مسجد جس کے قریب منارہ طیار ہو گا دمشق سے شرقی طرف ہی واقع ہیں۔حدیث میں اس بات کی تصریح نہیں کہ وہ منارہ دمشق سے ملحق اور اُس کی ایک جزو ہوگا بلکہ اس کے شرقی طرف واقع ہوگا۔پھر دوسری حدیث میں اس بات کی تصریح ہے کہ مسجد اقصیٰ کے قریب مسیح کا نزول ہوگا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ منارہ یہی مسجد اقصیٰ کا منارہ ہے اور دمشق کا ذکر اُس غرض کے لئے ہے جو ہم ابھی بیان کر چکے ہیں۔اور مسجد اقصی سے مراد اس جگہ یروشلم کی مسجد نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کی مسجد ہے جو باعتبار بعد زمانہ کے خدا کے نزدیک مسجد اقصیٰ ہے۔اس سے کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ جس مسجد کی مسیح موعود بنا کرے وہ اس لائق ہے کہ اس کو مسجد اقصیٰ کہا جائے جس کے معنے ہیں مسجد ابعد۔کیونکہ جب کہ مسیح موعود کا وجود اسلام کے لئے ایک انتہائی دیوار ہے اور مقرر ہے کہ وہ آخری زمانہ میں اور بعید تر حصہ دنیا میں آسمانی برکات کے ساتھ نازل ہوگا۔اس لئے ہر ایک مسلمان کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کی مسجد مسجد اقصٰی ہے کیونکہ اسلامی زمانہ کا خط ممتد جو ہے اس کے انتہائی نقطہ پر مسیح موعود کا وجود ہے لہذا مسیح موعود کی مسجد پہلے زمانہ سے جوصدرا سلام ہے بہت ہی بعید ہے۔سو اس وجہ سے مسجد اقصٰی کہلانے کے لائق ہے اور اس مسجد اقصی کا منارہ اس