خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 259

خطبة الهامية ۲۵۹ اردو ترجمہ ومأجوج، وترون أنهم من كل اور تم دیکھتے ہو کہ وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے حدب ينسلون ۔وما خرَجًا إلا چلے جا رہے ہیں ۔ یہ دونوں ان تین صدیوں بعد القرون الثلاثة ، وما كمل کے بعد ہی نکلے ہیں ۔ اور ان دونوں کا اقبال إقبالهما إلا عند آخر حصة هذا اس ہزار کے آخری حصہ میں ہی مکمل ہوا ہے الألف، وكمل الألف مع تکمیل اور ان کی سطوت کی تکمیل کے ساتھ اس ہزار کی سطوتهما، وإن فيها لآية لقوم تکمیل ہوئی ہے۔ یقیناً اس میں غور وفکر کرنے يتدبرون، وإن القرآن يهدى والی قوم کے لئے ضرور ایک نشان ہے۔ قرآن لهذا السر المكتوم۔ ويقول إن اس پوشیدہ بھید کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور کہتا يأجوج ومأجوج قد حبسا ہے کہ یا جوج ماجوج ایک معلوم وقت کے دن وصفدا إلى يوم الوقت المعلوم تک روکے گئے اور جکڑے گئے ہیں پھر نیکی کے ثم يُفتحان في أيام غروب شمس سورج کے غروب ہونے کے ایام اور گمراہیوں الصلاح وزمان الضلالات، کما کے زمانہ میں وہ دونوں کھول دیئے جائیں گے أنتم ترون في هذه الأيام جیسا کہ ان دنوں میں تم دیکھتے اور مشاہدہ کرتے وتشاهدون ۔ وكفى الطالبين هذا ہو ۔ حق کے طالبوں کے لئے اسی قدر بیان کافی القدر من البيان، وأرى أنّی ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں جو چاہتا تھا وہ میں أكملت ما أردت وأتممت نے مکمل کر دیا ہے اور ظالموں پر اتمام حجت کر دی الحجة على أهل العدوان وهذا ہے ۔ یہ وہ آخری بات ہے جس کا ہم نے ارادہ آخر ما أردنا ، فالحمد للہ علی کیا ، اس زمانہ کے طالبان حق کے لئے اس بات کو پورا کرنے پر ہم اللہ کی حمد وثنا کرتے ہیں۔ إتمامه لطلباء الزمان۔ ــت المؤلّف ميرزا غلام احمد ۱۷ / اکتوبر ۱۹۰۲ء المؤلف میرزا غلام احمد ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء