خطبة اِلہامِیّة — Page 257
خطبة الهامية ۲۵۷ اردو ترجمہ السماوات العُلى، وقد اٹھا لیا جائے گا۔رونما ہونے والے واقعات گواہی شهدت الواقعات الخارجية أن دے چکے ہیں کہ یہ بگڑا ہواز مانہ ایک ہزار برس تک هذا الزمان الفاسد امتد إلى ألف یعنی اس زمانہ تک پھیلا ہوا تھا۔یہاں تک کہ چھوٹا سنة۔۔أعنى إلى هذا الزمان زهر يلا سانپ بڑے زہرناک سانپ کی مانند ہو حتى صار الصلُّ كَالأفعوان۔گیا۔پس اس بحث سے ہم نے کامل یقین اور فَفَهِمُـنَـا مـن هـذا باليقين التام عرفان سے سمجھ لیا ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ يَعْرُ مج والعرفان، أن قوله تعالى يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةَ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ مِمَّا تَعُدُّونَ لے اُس مدت کے متعلق ہے جو سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ - يتعلق بهذه ضلالت ،فسق و فجور اور سرکشی میں گزری ہے۔المدة التي مرّت في الضلالة والفسق والطغيان، وكثر فيه اس میں مشرکوں کی کثرت ہو گئی تھی سوائے چند المشركون، إلا قليل من الذين لوگوں کے جو تقوی شعار تھے۔یہ پورے ایک كانوا يتقون۔وإنه ألف سنة ما ہزار برس ہیں نہ اس سے زیادہ نہ کم۔پس اگر تم زاد عليه وما نقص، فأى دليل سوچ بچار سے کام لو تو اس سے بڑی دلیل اور أكبر من هذا لو كنتم تفکرون کیا ہوگی اور اگر تم قبول نہ کرو تو ہمیں کھول کر وإن لم تقبلوا فبينوا لنا ما معنى بتاؤ کہ اس معنی کے سوا اس آیت کا اور کیا مفہوم هذه الآية من دون هذا المعنى ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ أن القيامة هي ألف سنة قيامت بھی دنیاوی مدت کے سالوں جیسے ہزار كسنواتِ مُدَةِ الدنيا أو تصعد سالوں کی ہے یا قیامت کے دن اسی جیسی مدت الأعمال إلى الله فی یوم القیامة میں اعمال اللہ کی طرف چڑھیں گے اور اس في مدةٍ كمثلها، ولا يعلمها الله سے پہلے اللہ کو اُن اعمال کا علم نہ ہو گا۔لے وہ ایک ایسے دن میں اس کی طرف عروج کرتا ہے جو تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال کے برابر إن كنتم تعلمون أتظنون ہوتا ہے۔(السجدۃ:۶)