خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 249

خطبة الهامية ۲۴۹ اردو ترجمہ سيدنا خير الرسل بالنظر إلى ہے اور سیدنا خیر الرسل کی عمر آپ کی پہلی تین القرون الثلاثة نصف عمر عیسی صدیوں کو دیکھتے ہوئے بالکل واضح طور پر عیسی ابن مريم بالبداهة۔ثم بعد ذلك ابن مریم کی عمر کا نصف بنتی ہے۔پھر اس کے بعد أيام موت الإسلام إلى ألف سنة۔ایک ہزار سال تک اسلام کی موت کا زمانہ ہے۔ثم بعد موت رسول اللہ صلی پھر ان معنی کے رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی الله عليه وسلم بهذا المعنی وفات کے بعد اس مسیح موعود کا زمانہ ہے جو شیطان ا زمان المسيح الموعود، الذى مردود کے قتل کرنے کے سلسلہ میں حضرت ابوبکر يشابه أبا بكر في قتل الشيطان کے مشابہ ہے کیونکہ مسیح موعود کو دین کے لحاظ المردود، فإن المسيح الموعود سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قد استخلف بعد موت النبي بعد بلا فصل بلکہ تدفین سے بھی پہلے خلیفہ بنایا الكريم من حيث دينه، من غير گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت ابوبکر فاصلة بل قبل تدفينه، وأشركه ربُّه کی خلافت کی خبر میں شریک کر دیا ہے یعنی وہ خبر في نبأ خلافة أبي بكر۔أعنى النبأ جو قرآن مجید میں مذکور ہے اور اس کو بھی حضرت الذي ذكر في صحف مطهرة، ابو بکر کی طرح توفیق دی گئی اور مہلک گمراہی کے سیلاب کو روکنے کے لئے ان جیسا عزم دیا گیا۔اسی کی طرف اللہ سُبحَانَهُ تَعَالیٰ نے اپنے قول مهلكة۔وإليه أشار سبحانه تعالى قوله لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ في مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ - یعنی مِن ألف میں اشارہ فرمایا ہے۔الْفِ شَهْرٍ سے مراد یہاں سنة، وكثرت الاستعارات كمثله الْفِ سَنَةٍ ( یعنی ایک ہزار سال ) ہے۔اور في كتب سابقة۔ثم بعد ذالک اس جیسے استعارات کتب سابقہ میں بکثرت الألف زمان البعث بعد الموت ہیں۔اس ہزار سال کے بعد بعث بعد الموت اور ووُفِّق كما وُفّق أبو بكر، وأُعطى له العزم كمثله لمنع سيل ضلالة قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔(القدر :۴)