خطبة اِلہامِیّة — Page 248
خطبة الهامية ۲۴۸ اردو ترجمہ ولم يبق لعاقل ارتیاب فى هذا عقل مند کے لئے اس بیان کے بعد شک کی البيان، بل هو موجب لثلج گنجائش نہیں رہتی بلکہ یہ دل کے اطمینان اور الصدر والاطمئنان، وبطل معه تسلی کا موجب ہے اور اس کے ساتھ وہ اعتراض يرد علی حدیث عمر اعتراض بھی باطل ہو جاتا ہے جو انبیاء کی عمر الأنبياء ، فإن عمر عيسى من والی حدیث پر وارد ہوتا ہے کیونکہ بالبداہت جهة بقاء دينه نصف عمر موسى حضرت عیسی کی عمر آپ کے دین کے بقاء کے لحاظ كما ظهر من غير الخفاء ، وعمر سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر کا نصف بنتی بقية الحاشية۔المصطفى۔ماكان بقيه حاشيه - دوسری امتوں کی نسبت سے عصر کا الاكالـعـصـر نسبة الى امم اخرى۔ہی وقت تھا کیونکہ پانچویں ہزار کی نسبت جو فان نسبة الالف الخامس الى عمر دنیا کی عمر یعنی سات ہزار سے ہے اس نسبت الدنيا۔اعنى سبعة الاف۔تضاهى کے مشا کے مشابہ ہے جو وقت عصر سے پائی جاتی نسبة توجد لوقت العصر بما مضى ہے۔جو بغیر اختلاف کے پہلے گزر چکا ہے اور بغير خلاف۔و ذالك اذا اخذ یہ اس طرح ہے کہ جب بعض علاقوں میں سورج مقدار النهار سبع ساعات۔نظراً کے طلوع و غروب پر نظر کر کے دن کی کم از کم الى اقل مقدار طلوع الشمس و مقدار سات گھنٹے لی جائے اور آپ جانتے غروبها في بعض معمورات۔و انت تعلم ان النهار يوجد بهذا القدر فی ہیں کہ بعض دور دراز علاقوں میں دن اسی قدر بعض البلاد القصوى۔كما لا یخفی ہوتا ہے جیسا کہ عقل مندوں پر مخفی نہیں۔پہلی على اولى النهى۔وانا اخذنا صورت میں ہم نے دن کو زیادہ گھنٹوں کے النهار في صورة اولى بلحاظ حساب سے شمار کیا اور دوسری صورت میں ازيد ساعاتها و في الاخرى بلحاظ کم از کم ساعات کے اعتبار سے اور ہمیں اقلها و لنا الخيرة كما ترى منه اختیا ر ہے جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے۔