خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 210

خطبة الهامية ۲۱۰ اردو ترجمہ والهوى، ويدعو إلى محويّة في پر وارد ہوتی ہے اور فطرتی شریعت میں محو ہو جانے الشريعة الفطرية وحالة كحالة من کی طرف اور اس شخص کی حالت جیسی حالت کی مات وفنى، ويجر إلى تعطل تامّ طرف بلاتی ہے جو مر گیا اور فنا ہو گیا ہو۔اور خود من حركات الاختيار، وموافقة اختيارى كى حرکات سے کلیڈ معطلی اور ان فتاویٰ بالفتاوى التي تحصل للقلب في سے موافقت کی طرف کھنچتی ہے جو قضاء وقدر كل حين من الله منزل نازل کرنے والے اللہ کی طرف سے دل کو ہر آن الأقدار۔وفي هذه الحالة يكون حاصل ہوتے ہیں۔اس حالت میں انسان الإنسان مستهلكة الذات غیر فانی الذات ہو کر نفس اور جذبات کے حکم کے تابع تابع لأمر النفس والجذبات، حتی نہیں رہتا یہاں تک کہ اس کی طرف نہ کوئی سکون لا يُنسب إليه سكون ولا حركة منسوب ہو سکتا نہ کوئی حرکت اور نہ چھوڑنا اور نہ ولا ترك ولا بطش ویتعالی شانه پکڑنا۔اس کی شان تغییرات سے بالا ہو جاتی ہے عن التغيرات، ولا يوجد فيه من اور اس میں اپنے قصد وارادہ کا کوئی نشان تک القصد والإرادة أثر، ولا من نہیں رہتا اور نہ کسی مدح و مذمت کی خبر ہوتی ہے المدح والمذمة خبر ويصير اور وہ مُردوں کی طرح ہو جاتا ہے۔پس یہ موت كالأموات۔فهذا نوع من الموت کی ایک قسم ہے۔اس موت کا مقام پانے والا نہ فإنه لا يملك أهل هذا الموت کسی حرکت وسکون کا اختیار رکھتا ہے اور نہ کسی دکھ حركة ولا شكونًا، ولا ألَمًا ولا اور لذت کا۔نہ کسی راحت اور تھکاوٹ کا اور نہ کسی لذة ، لا راحةً ولا تعبا، ولا محبة محبت وعداوت کا۔نہ عفو کا نہ انتقام کا اور نہ کسی بخل ولا عداوة، ولا عفوا ولا انتقاما کا اور نہ سخاوت کا۔نہ کسی بزدلی اور نہ بہادری کا ولا بخلا ولا سخاوة، ولا جُبنا ولا اور نہ غضب کا اور نہ شفقت کا۔بلکہ وہ حتی و لله شجاعة، ولا غضبا ولا تحننا، بل قیوم کے ہاتھ میں ایک مُردہ ہوتا ہے جس میں نہ هو ميت في أيدى الحى القيوم کوئی حرکت باقی رہ گئی ہوتی ہے اور نہ کوئی خواہش