خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 209

خطبة الهامية ۲۰۹ اردو ترجمہ الأمراض تشاع والنفوس تم دیکھ رہے ہو کہ بیماریاں پھیل رہی ہیں اور جانیں تُضاع، وسيذوق الناس ضائع ہو رہی ہیں اور عنقریب لوگ اس موت کا مزہ موتا هوموت من أهواء چکھیں گے جو غیر اللہ کی خواہشات کی موت ہے۔ الغيرية وجئت لأنقل الناس من میں اس لئے آیا ہوں تا لوگوں کو کثرت سے وحدت الكثرة إلى الوحدة، وإلى الاتفاق کی طرف اور مخالفت سے اتفاق کی طرف اور تفرقہ من المخالفة، وإلى الاجتماع من سے اتحاد کی طرف لے آؤں۔ اور اسی کے لئے التفرقة، ولذالك خُلِقَ أسبابها، اسباب پیدا کر دیئے گئے ہیں اور ان کے دروازے وفتح أبوابها ۔ ألا ترون إلى الطرق کھول دیئے گئے ہیں۔ کیا تم راستوں کی طرف نہیں كيف كشفت؟ وإلى الوابورة دیکھتے کہ وہ کیسے واضح کر دیئے گئے ہیں اور دخانی كيف أُجريت؟ وإلى العشار كيف جہازوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے چلائے گئے ہیں اور عطلت؟ وإلى الأخبار كيف يُسِّر دس ماہ کی گا بھن اونٹنیاں کیسے بیکار چھوڑ دی گئی ہیں إيصالها، والخيالات تبادلت ؟ اور خبروں پر نگاہ نہیں کرتے کہ انہیں پہنچانا کیسے وإلى النفوس كيف زُوّجت؟ آسان بنا دیا گیا ہے اور کس طرح تبادلہ خیالات ہو وترون أن الناس ينقلون من هذه رہا ہے اور نفوس کو کیسے ملا دیا گیا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ الدنيا إلى دار الفناء بمحاربات لوگ ان جنگوں کی وجہ سے جن کی آگ بادشاہوں أوقدت نارها بین الملوک کے درمیان بھڑکائی گئی ہے اور طرح طرح کی وباؤں وبأنواع الوباء ثم بإشاعة لب کی وجہ سے اس دنیا سے دارفانی کی طرف منتقل کئے تعليم القرآن، وحقيقة كتاب الله جا رہے ہیں۔ پھر تعلیم قرآن کے مغز اور خدائے الرحمن، الذى أُرسلتُ له فى هذا رحمان کی کتاب کی حقیقت کی اشاعت سے بھی جس الزمان، فإن هذا التعليم يدعو إلى کے لئے میں اس زمانہ میں بھیجا گیا ہوں کیونکہ یہ الموت ۔۔ أعنى إلى موت يَرِدُ تعليم موت کی طرف بلاتی ہے یعنی اس موت کی على النفس بترك الغيرية طرف جو دُوئی اور ہوا و ہوس کو چھوڑ نے سے نفس