خطبة اِلہامِیّة — Page 181
خطبة الهاميه ۱۸۱ الْقَصِيدَةُ لِكُلِّ قَرِيحَةٍ سَعِيدَةٍ ہر سعید فطرت کے لئے ایک قصیدہ اردو ترجمہ ارى سَيْلَ آفَاتٍ قَضَاهَا الْمُقَدِّرُ وَفِي الْخَلْقِ سَيِّاتٌ تُذَاعُ وَ تُنشَرُ میں ان آفات کے سیلاب کو دیکھ رہا ہوں جن کو تقدیر جاری کرنے والے خدا نے مقد ر کیا ہے اور مخلوق میں ایسی برائیاں (موجود) ہیں جو پھیلائی اور نشر کی جارہی ہیں ۔ وَفِي كُلِّ طَرُفٍ نَارُ شَرِّ تَأَجَّجَتْ وَفِي كُلِّ قَلْبٍ قَدْ تَرَائَ التَّحَبُّرُ اور ہر طرف آتش فساد و شر بھڑک اُٹھی ہے اور ہر ایک دل میں قساوت ظاہر ہوگئی ہے۔ وَقَدْ زُلْزِلَتْ مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ دَوْحَةٌ تُظِلُّ بِظِلَّ ذِي شِفَاءٍ وَتُكْمِرُ اور اس ہوا سے وہ درخت ہل گیا ہے جو شفا بخش اور سایہ دینے والا اور ثمر دار تھا۔ ارى كُلَّ مَحْجُوبِ لِدُنْيَاهُ بَاكِيًا فَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْكِي لِدِينِ يُحَقِّرُ میں دیکھتا ہوں کہ ہر غافل اپنی دنیا کے لئے رو رہا ہے ۔ پس کون ہے جو دین کے لئے روئے جس کی تحقیر کی جارہی ہے۔ وَلِلدِّينِ أَطْلَالٌ اَرَاهَا كَلَاهِفٍ وَدَمْعِي بِذِكْرِ قُصُورِهِ يَتَحَدَّرُ اور دین کے کھنڈرات ہو چکے ہیں جنہیں میں غم زدہ کی طرح دیکھ رہا ہوں اور میرے آنسواس کے محلات کی یاد میں بہہ رہے ہیں ۔ تَرَاءَتْ غَوَايَاتٌ كَرِيحٍ مُجِيحَةٍ وَاَرْحَى سَدِيلَ الْغَيِّ لَيْلٌ مُّكَدِّرُ بیخ کنی کرنے والی ہوا کی طرح گمراہیاں ظاہر ہوگئی ہیں اور اندھیری رات نے ضلالت کا پردہ لڑکا دیا ہے۔ ارَى ظُلُمَاتٍ لَّيُتَنِي مِتُّ قَبْلَهَا وَذُقْتُ كُنُوسَ الْمَوْتِ أَوْ كُنتُ انْصَرُ میں تاریکیاں دیکھتا ہوں ۔ کاش میں ان سے پہلے ہی مرجاتا اور موت کے پیالے چکھ لیتا یا پھر میں نصرت دیا جاتا۔