خطبة اِلہامِیّة — Page 179
خطبه الهاميه 129 ارد و ترجمه لوجود نبينا كالمرآة ومُتمِّمَ أمره اور تمام دینوں پر اسلام کے غلبہ سے آنجناب بإشاعة البركات وإظهار الإسلام کے امر کا تمام کرنے والا تھا لہذا نبی کریم نے على الأديان كلها بالآیات شگر اس کی کوشش کو پسند کیا جیسا کہ باپ بیٹوں کی النبيُّ صلى الله علیه و سلم سعیه کوشش کا شکر ادا کرتے ہیں اور وصیت فرمائی كشكر الآباء للأبناء ، وأوصى که آنجناب کا سلام اس کو پہنچایا جائے۔اور اس ليُـقـرا سـلامـه عـلـيـه إشارةً إلى سلام سے یہ اشارہ ہے کہ سلامتی اور بلندی مسیح السلامة والعلاء ولو كان کے شامل حال ہوگی۔اور اگر مسیح موعود سے المراد من المسيح عيسى ابن انجيل والا عیسی ابن مریم مراد ہو تو سلام پہنچانے مريم الذى أنزل عليه الإنجيل کی وصیت فاسد ہو جاتی ہے۔اور اس تک کوئی لفسد وصيّة تبليغ السلام ومـا رستہ نہیں رہتا۔کیونکہ جب تمہارے کہنے کے كان إليها السبيل، فإن عيسى عليه السلام اذا نزل بقولكم من السماء فلا شك أنه كان يعرفه بموجب عیسی آسمان سے نازل ہوا تو اس میں شک نہیں کہ رسول کریم اور وہ دونوں آپس میں دوستوں کی طرح جان پہچان رکھتے ہوں گے رسولنا كالأحباء ، بل كان يسلّم اور ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو سلام بعضهما على البعض عند اللقاء ، فيكون عند ذالك إيداع أمانة کرتے ہوں گے۔پس اس صورت میں سلام کو امانت کی طرح رکھنا ایک بیہودہ فعل ہوگا کیونکہ السلام لغوًا وعَبثًا و كالاستهزاء لما هو وقع في السماء مرارا سلام بارہا آسمان میں واقع ہوا اور خبر دار وكان معلوما قبل الإعلام و کرنے سے پہلے معلوم تھا۔اس کے علاوہ ظاہر الإدراء۔ثم من المعلوم أنه عليه ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے السلام قد لقي عیسی لیلة معراج کی رات حضرت عیسی کو دیکھا۔اور اس المعراج وسلّم عليه، فلا شک پر سلام کہا۔پس کوئی شک نہیں کہ آنجناب نے ۲۰۲