خطبة اِلہامِیّة — Page 161
خطبه الهاميه ۱۶۱ اردو ترجمہ كان في وقت جمادًا، وفى وقت لفظوں میں اس طرح پر سمجھنا چاہیے کہ آخر نباتا، وبعد ذالک حیوانا، انسان ایک وقت جماد تھا اور دوسرے ۱۷۶ وبعد ذالک كوكبًا وقمرا وقت ثبات اور اس کے بعد حیوان اور وشمسا حتى جمع في اليوم اس کے بعد ستارہ اور چاند اور سورج الخامس كل ما اقتضت فطرته تھا یہاں تک پانچویں دن وہ سب کچھ جو من القوى الأرضية والسماوية اس کی فطرت زمینی اور آسمانی قوی سے بفضل الله أحسن الخالقين ۔ تقاضا کرتی تھی احسن الخالقین خدا کے فكان الخلق كله فردا كاملا فضل سے جمع ہو گیا ۔ پس تمام پیدائش لآدم، أو مرآة لوجوده الذي آدم کے لئے ایک فرد کامل تھا یا اس کے أعزه الله وأكرم ۔ ثم أراد الله أن وجود کا آئینہ تھا جسے خدا نے معزز اور يُرى هـذه الــخــفـــايـا علـى وجـه مکرم بنایا ۔ پھر ارادہ فرمایا کہ الكمال في شخص واحد هو پوشید گیوں کو پورے طور پر ایک ہی شخص مظهر جميع هذه الخصال، فتجلت روحانية آدم بالتجلّى میں ظاہر کرے جو ان خصلتوں کا مظہر ہو ۔ پس آدم کی روحانیت نے جامع الجامع الكامل في الساعة کامل تجلّی کے ساتھ جمعہ کے دن آخری الآخرة من الجمعة، أعنى اليوم ساعت میں تجلی فرمائی یعنی اُس دن جو الذي هو السادس من الستة ۔ فکذالک طلعت روحانیہ چھ کا چھٹا ہے اسی طرح ہمارے نبی کریم نبينا صلى الله عليه وسلم في صلى اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے الألف الخامس بإجمال صفاتها، پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے وما كان ذالك الزمان منتهی ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اُس ترقياتها، بل كانت قدمًا أولى روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا بلکہ اس ۱۷۷