خطبة اِلہامِیّة — Page 159
خطبه الهاميه ۱۵۹ ارد و ترجمه على الدين، وخلق في السماء ہر ایک گروہ کو پیدا کیا اور آسمان میں نجومها وأقـمـارهـا وشموسها ستارے اور چاندوں اور سورجوں یعنی أعنى النفوس المستعدّة من پاکوں کے نفوس مستعدہ کو ظہور میں لا یا تو بعد الطاهرين المنوّرين، خلق بعد اس کے اُس آدم کو وجود کا خلعت پہنا یا جس هذا آدم الذي اسمه محمد کا نام محمد اور احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ أحمد، وهو سيد ولد آدم آدم کی اولاد کا سردار اور خلقت کا امام وأتقى وأسعد، وإمام اور سب سے زیادہ تقی اور سعید ہے۔اور الخليقة۔وإليه أشار الله فی قولہ اس کی طرف خدا تعالیٰ کا یہ قول اشارہ کرتا ہے (۱۷۳) وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّى وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ الآية اور خدا کی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً و عزت اور جلال کی قسم کہ اڈ کا لفظ قطعی بعزة الله و جلاله أن لفظ إِذْ دلالت کے ساتھ اس مقصود پر دلالت کرتا يدلّ بدلالة قطعية على هذا ہے۔اور اگر تو یہود کی طرح نہیں تو آیت المقصود، ويدل علیه سیاق کا سیاق و سباق تجھ پر اس راز کو کھول دے الآية وسباقها إن كنت لست گا پس شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ كاليهود فلا شك أنه آدم آخر وسلم آخر زمانہ کے آدم ہیں اور امت اس الزمان، والأمّة كالذرية لهذا نبي محمود کی ذریت کی بجا ہے۔اور اس کی النبي المحمود، وإليه أشار في طرف خدا تعالیٰ کے اس قول کا اشارہ ہے قوله إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ اِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ پس ان معنوں میں فَامْعِنُ فيه وتَفَكَّرُ، ولا تكن من غور اور فکر کر اور غافلوں میں سے مت الغافلين۔وإن زمان روحانية نبينا ہو۔اور ہمارے نبی کی روحانیت کا زمانہ عليه السلام قد بدأ من الألف پانچویں ہزار سے شروع اور چھٹے ہزار (۱۷۴) الخامس وكمل إلى آخر الألف کے آخر تک کامل ہوا اور اس کی البقرة : ٣١ ٢ الكوثر : ٢