خطبة اِلہامِیّة — Page 158
خطبه الهاميه ۱۵۸ ارد و ترجمه أشار سبحانه في قوله وَ اخَرِيْنَ شاگرد کی نسبت ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اى (۱۷) ففكر في قوله آخرین۔وأنزل بات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔پس آخــریــن الله على فيض هذا الرسول کے لفظ میں فکر کرو۔اور خدا نے مجھ پر فأتمه وأكمله، وجذب إلى لطفه اُس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو وجُودَه، حتى صار وجودی کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور خود کو وجوده، فمن دخل فی جماعتی میری طرف کھینچا یہاں تک کہ میرا وجود اس دخل في صحابة سيدی خیر کا وجود ہو گیا پس وہ جو میری جماعت میں المرسلين۔وهذا هو معنى داخل هوا در حقیقت میرے سردار خیرالمرسلین وَآخَرِينَ مِنْهُم كما لا یخفی علی کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی آخَرِينَ المتدبّرين۔ومَن فَرّق بيني و بين مِنْهُمْ کے لفظ کے بھی ہیں جیسا کہ سوچنے المصطفى، فما عرفنى وما رأى والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور وإن نبينا صلى الله علیه و سلم مصطفی میں تفریق کرتا ہے اُس نے مجھ کو نہیں كان آدم خاتمة الدنيا ومنتهى دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔اور بے شک (۱۷۲) الأيام، وخُلق کاآدم بعد ما خُلق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے خاتمہ کے على الأرض كل نوع من آدم اور زمانہ کے دنوں کے منتہا تھے اور الدواب وكل صنف من السباع آنحضرت آدم کی طرح پیدا کیے گئے اس کے والأنعام، ولما خلق الله هذه بعد که زمین پر ہر طرح کے کیڑے مکوڑے اور الخليقة من أنواع النعم والسباع چار پائے اور درندے پیدا ہو گئے اور جس والدود على الأرضين؛ أعنى وقت خدا نے اس مخلوق کو یعنی حیوانوں اور كل حزب من الفاجرين درندوں اور چیونٹیوں کو زمین پر پیدا کیا یعنی والكافرين، والذين آثروا الدنيا فاجروں اور کافروں اور دنیا پرستوں کے ا الجمعة : ۴