خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 157

خطبه الهاميه ۱۵۷ ارد و ترجمه الأحد الفرد الذي صبغ كلّ ما اور یکتا ہے جس نے ساری مخلوقات کو یگانگت خلقه بصبغ الأحدية، وليعرفوا کے رنگ سے رنگ دیا ہے اور اس لئے تا کہ أنه هو ربّ العالمين۔وحاصل پہچان لیں کہ جہانوں کا پروردگار وہی ہے۔الكلام أن الله وتريحبّ الوتر، اور حاصل کلام یہ کہ خدا اکیلا ہے اور ایک فاقتضتُ وَحدتُه أن يكون ہونے کو دوست رکھتا ہے۔اس لئے اُس کی الإنسان الذى هو خاتم الخلفاء یکتائی نے چاہا کہ وہ انسان جو خلیفوں کا خاتم مشابها بآدم الذي هو أوّل مَن هو اُس آدم کے مشابہ ہو جو سب خلیفوں کا ہو أُعطي خلافةً عُظمى و أوّلُ مَن پہلا تھا اور مخلوقات میں اول شخص تھا جس میں نفخ فيه الروح من رَبّ الورى، خدا کی روح پھونکی گئی تھی اور یہ اس لئے کیا ليكون زمان نوع البشر كدائرة تا که نوع بشر کا زمانہ اُس دائرہ کی طرح ہو يتصل النقطة الآخرة بنقطتها جائے جس کا آخری نقطہ اُس کے پہلے نقطے الأولى، وليدل على التوحید سے مل جاتا ہے اور نیز اس لئے کہ اس توحید (۱۷۰) الذي دعى إليه الإنسان۔پر دلالت کرے جس کی طرف انسان کو بلایا والتوحيد أحب الأشياء إلى ربنا گیا ہے۔اور تو حید ہمارے پروردگار کو سب الأعلى، فاختار وضعًا دوریا فی چیزوں سے زیادہ پیاری ہے۔اس لئے خلق الإنسان، فلذالک ختم انسان کی پیدائش میں وضع ڈوری کو اختیار علی آدم كما كان بدأ من آدم فرمایا۔اور اسی سبب سے آدم پر ختم کیا جیسا في أوّل الأوان، و إن فی ذالک کہ شروع میں آدم سے ابتدا کیا اور فکر کرنے لآية للمتفكرين۔وإن آدم آخر والوں کے لئے اس میں بڑا بھاری نشان الزمان حقيقة هو نبينا صلى الله ہے اور آخر زمانہ کا آدم در حقیقت ہمارے عليه و سلم، والنسبة بينى وبينه نبی کریم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔اور میری كنسبة من علم وتعلم، وإليه نسبت اُس کی جناب کے ساتھ اُستاد اور