خطبة اِلہامِیّة — Page 145
خطبه الهاميه الده اردو ترجمہ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ تیرے مرنے کے بعد جو چاہے مرے مجھے تو فَعَلَيْكَ كُنتُ أُحَاذِرُ تیرے ہی مرنے کا ڈر تھا۔ یعنی مجھے تو سارا يريد أن خوفي کله کان علیک یہی ڈر تھا کہ کہیں تو نہ مر جائے لیکن اب جبکہ تو ۱۵۱ فإذا مت فلا أبالى أن يموت ہی مر گیا تو اب مجھے کچھ پروا نہیں کہ موسیٰ موسى أو عيسى فانظروا إليهم مرے یا عیسی مرے ۔ اب غو مرے ۔ اب غور کرو کہ وہ اپنے كيف أحبوا نبيهم وكيف كان نبی کو کس قدر دوست رکھتے تھے اور کس طرح تصدر منهم آداب المحبة محبت کے آداب اور نشان اُن سے ظاہر وآثارها أيها المجادلون ہوتے تھے۔ اور یہ بھی غور کرو کہ ان کی وانظروا كيف اقتضت غيرتهم غیرت نے ہرگز نہ چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ أنهم ما رضوا بحياة نبي بعد علیہ وسلم کی موت کے بعد کسی نبی کی حیات پر موت رسول الله، فهُدُوا إلى راضی ہو جا ئیں پس خدا نے ان کو اسی طرح الصراط كما يُهدى العاشقون ۔ سے حق کی راہ دکھلائی جس طرح سے عاشقوں واجتمعت قلوبهم على مفهوم آية قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کو دکھلاتا ہے۔ اور ان کے دلوں نے قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کی آیت کے و آمنوا به و كانوا به يستبشرون ۔ ثم أتيتم بعدهم ۔۔ ما قدرتم مفہوم پر اتفاق کر لیا۔ اور اس پر ایمان ۱۵۲ نبيكم حق قدره وتقولون ما لائے اور اس پر خوش ہوئے ۔ پھر صحابہ کے تقولون أتأمركم محبتكم بعد تمہاری باری آئی تم نے اپنے نبی کی وہ بنبيكم أن يبقى عيسى على قدر نہیں کی جو قدر کرنے کا حق تھا۔ اور السماء حيا وقد مضى ألف کہتے ہو جو کچھ کہتے ہو ۔ کیا تمہاری محبت روا وقريب من ثلثه على موت رکھتی ہے کہ عیسی آسمان پر زندہ ہو اور ہمارے رسول الله؟ ساء ما تحكمون نبی چودہ سو برس سے وفات یافتہ ہوں ۔