خطبة اِلہامِیّة — Page 114
خطبه الهاميه ۱۱۴ اردو ترجمہ ١٠٦٠ - ہیں ترك الفرائض والحدود، لا گئے ۔ نہ نماز - نہ نماز پڑھتے ہیں نہ روزہ رکھتے يصومون ولا يصلون، ولا ہیں اور موت کو یاد نہیں کرتے اور بے يذكرون الموت ولا يبالون خوف ہیں اور ان میں سے ایسے لوگ بھی ومنهم قوم اتخذوا الدنيا ہیں جنہوں نے دنیا کو اپنا معبود بنایا اور ۱۰۶ معبودهم ولهـا فـي لـيـلـهـم رات دن اسی کے لئے کام کرتے ہیں ۔ ونهارهم يعملون، ومنهم سابقون اور ان میں سے ایسے لوگ ہیں کہ کمینی اور في الرزائل، وأولئك الذين رذیل خصلتوں میں سب سے بڑھ گئے ۔ يتخذون أهل الحق سُخريًّا یہی لوگ ہیں جو اہل حق پر ٹھٹھے مارتے وعليهم يضحكون ويعادونهم اور ان سے دشمنی کرتے ہیں اور گالیاں ويكفرونهم ويشتمونهم، و ونهم، و دیتے ہیں اور ریا اور دکھلاوے کے کام يعملون رياءً وبطرًا ولا کرتے ہیں اور اخلاص نہیں رکھتے اور خدا يخلصون ۔ ويصولون علی کے مسیح پر اور اس کے گروہ پر حملہ کرتے ہیں مسيح الله وحزبه، ويجرونهم اور ان کو حاکموں کی طرف کھینچتے ہیں اور ہر إلى الحكام وفی کل طریق ایک رستے کے سرے پر ان کے ستانے کے يقعدون، ويقولون اقتلوهم فإنهم لئے بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو مار ڈالو كافرون ۔ وإذا قيل لهم تعالوا کیونکہ یہ کافر ہیں ۔ اور جس وقت ان کو إلى كلام الله واجعلوه حَكَمًا کہیں کہ خدا کے کلام کی طرف آؤ اور اس بيننا وبينكم ترى أعينهم تحمر كو ہمارے اور اپنے درمیان حکم بناؤ تو من الغيظ ويمرون شاتمین وھم ان کی آنکھیں غصہ سے لال ہو جاتی ہیں مشتعلون ۔ وكأين من آي الله اور گالیاں دیتے گزر جاتے ہیں ۔ بہتوں رأوها بأعينهم ثم يمرون نے خدا کے نشانوں کو آنکھوں سے دیکھا مستكبرين كأنهم لا يبصرون پھر متکبرانہ گزر جاتے ہیں گویا اندھے