خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 5

خطبة الهاميه اردو ترجمہ الاعمال والعادة۔ ثم يقولون مع کے مثیل ہیں ۔ اس کے باوجود وہ کہتے ہیں ذالك ان المسيح ينزل من که مسیح آسمان سے نازل ہوگا اور در حقیقت السماء۔ وهو ابن مريم رسول الله وہ ابن مریم رسول اللہ ہو گا نہ کہ اصفیاء میں في الحقيقة لا مثيله من الاصفياء۔ سے اس کا کوئی مثیل ۔ گویا کہ انہوں نے فكأنهم حسبوا هذه الامة اردء اس امت کو تمام امتوں میں سے رڈی اور الامم واخبثهم فانهم زعموا ان ناپاک ترین خیال کیا ہے کیونکہ وہ یہ عقیدہ المسلمين قوم ليس فيهم احد اپنائے بیٹھے ہیں کہ مسلمان ایسی قوم ہیں جن يقال له انه مثيل بعض الاخیار میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں کہ اسے سابقہ نیک السابقين۔ واما مثيل الاشرار لوگوں کا مثیل کہا جا سکے ۔ ہاں شریروں کے فكثير فيهم ففكروا فيه يا معشر مثیل ان میں بکثرت ہیں پس اے عاقلین العاقلين۔ ثم ان مسئلة نزول کے گروہ اس میں غور کرو۔ پھر عیسی" نبی اللہ عيسى نبي اللـه كـانـت مـن كانت من کے نزول کا مسئلہ نصرانیوں کی اختراع ہے اختراعات النصرانيين۔ واما القرآن اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اُس نے فتوفاه والحقه بالميتين۔ وما اُسے وفات یافتہ قرار دیا اور فوت شدگان اضطرت النصارى الى نحت هذه سے ملایا ہے ۔ اس لغو عقیدہ الوہیت مسیح کو العقيدة الواهية الا فى ايام تراشنے پر عیسائی مایوسی اور موعودہ نصرت اليأس و قطع الامل من سے نا اُمیدی کے وقت ہی مجبور ہوئے ۔ النصرة الموعودة۔ فان اليهود کيونکہ يہود جب انہیں رسوا ہوتے اور كانوا يسخرون منهم آفات میں پھنسے دیکھتے تھے تو اُن کا تمسخر ويضحكون عليهم ويؤذونهم اڑاتے اور اُن پر ہنستے اور طرح طرح کے بانواع الكلمات۔ عندما رَأَوُا كلمات سے انہیں تکلیف دیتے تھے۔ کیونکہ وہ خذلانهم وتقلبهم في الآفات کہتے تھے کہ تمہارا وہ مسیح کہاں گیا جو یہ سمجھتا تھا