خطبة اِلہامِیّة — Page 100
خطبه الهاميه ارد و ترجمه یکرمون یا معشر العقلاء لا اے عقل والو! امید نہ رکھنا کہ کوئی آسمان ترقبوا ان ينزل احد من السماء سے اترے گا اور جان لو کہ یہ وہی دن ہے (۸۴) واعلموا ان هذا هو يومكم الذى جس كا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا۔اور خدا نے كنتم توعدون وقد وعد الله مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان کو موسیٰ کی الذين أمنوا منكم ليستخلفنهم شریعت کے خلیفوں کی مانند خلیفہ بنائے گا۔كمثل خلفاء شرعة موسى فوجب یہاں سے واجب ہوا کہ آخری خلیفہ عیسی ان يأتى اخر الخلفاء على قدم علیہ السلام کے قدم پر آئے گا اور اسی امت عيسى ومن هذه الامة و انتم میں سے ہوگا اور تم قرآن پڑھتے ہو کیا نہیں تقرء ون القرآن أفلا تفهمون۔سمجھتے۔یہ خدا کا وعدہ تھا پس خدا کے وعد من الله فلا تحسبوا وعد الله و عدہ کو جھوٹوں کے وعدوں کی طرح نہ كموا عيد قوم يكذبون۔وكيف يتم سمجھو اور خدا کا وعدہ کس طرح پورا ہو وعد الله من دون ان يظهر بغیر اس کے کہ مسیح تم میں سے ظاہر ہو المسيح منكم مالكم لا تفكرون کیوں خدا کی آیتوں میں فکر اور تد بر نہیں في آيات الله ولا تتدبرون کرتے کیا خدا کی شان کے لائق ہے کہ تم أيليقُ بشان الله ان يعد كم انه سے وعدہ کرے کہ خلیفے تم میں سے پیدا يبعث الخلفاء منكم كمثل الذین کرے گا ان کی مانند جو پہلے گزرے پھر (۸۵) خلوا من قبل ثم ينسى وعده اپنے وعدہ کو بھول جائے اور عیسی کو وينزل عيسى من السماء آسمان سے اتارے۔خدا تعالیٰ تمہارے سبحانه وتعالى عما تفترون ان افتراؤں سے پاک اور برتر ہے کیوں فمالكم انكم تجادلون فی مسیح موعود کے حق میں لڑتے ہو اور اس پر المسيح الموعود و تصرون على اصرار کرتے ہو کہ وہ وہی مسیح ابن مریم ہوگا انه هو المسیح ابن مریم و حالانکہ تم خدا کی کتاب پڑھتے ہو پھر غافل